
کیا مسجد کی چھت پر تبلیغی جماعت کے لیے ایک کمرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، جس میں تبلیغی حضرات آرام کر سکیں اور اپنا سامان وغیرہ رکھ سکیں؟
واضح رہے کہ تبلیغی جماعت کا قیام اور اس کے متعلقہ امور مصالحِ مسجد میں داخل نہیں ہیں، لہٰذا مسجد کی چھت پر یا مسجد کے حدود میں ایسا کمرہ تعمیر کرنا، جس میں تبلیغی جماعت والے کھانا پکائیں یا جسے اسٹور کے طور پر استعمال کیا جائے، شرعاً جائز نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں تبلیغی جماعت والوں کے لیے مسجد کی چھت پر ایسا کمرہ تعمیر کرنا کہ جس میں ان کا قیام ہو، اور ان کا سامان رکھنا جائے، شرعاً درست نہیں ہے۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:
"ولو أن قيم المسجد أراد أن يبني حوانيت في حريم المسجد وفنائه. قال الفقيه أبو الليث رحمه الله تعالى : لا يجوز له أن يجعل شيئاً من المسجد مسكناً أو مستغلاً ."
(کتاب الوقف، باب الرجل يجعل داره مسجداً أو خاناً أو سقاية أو مقبرة،ج:3، ص:168، ط:دارالکتب العلمیۃ)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأنه مسجد إلى عنان السماء
(قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي"
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:656، ط:سعید )
الموسوعۃ الفقہیۃ الكویتیۃ میں ہے:
"ذهب الحنفية إلى أنه ليس لقيم المسجد أن يجعله سكنا لأنه إن فعل ذلك تسقط حرمته. وإذا أراد أن يبني حوانيت في المسجد أو في فنائه لا يجوز له أن يفعل، لأن الفناء تبع للمسجد. "
(حرف الميم، السكن والبناء في المسجد، ج:37، ص:213، ط:دارالسلاسل - الكويت)
فتاوی دارالعلوم دیوبند(فتوی نمبر :48264 )میں ہے:
"تبلیغی جماعت، مصالحِ مسجد میں داخل نہیں، اس لیے مسجد کی جگہ میں مسجد کے پیسوں سے جماعت کا سامان رکھنے کے لیے اور کھانا پکانے کے لیے تبلیغی جماعت والوں کے واسطے کمرہ بنانا جائز نہیں، ویسے عارضی طور پر ایک دو روز قیام کے لیے اپنا سامان مسجد میں رکھنے اور مسجد سے باہر کھانا پکانے میں کوئی مضائقہ نہیں، مسافر کے لیے اجازت ہے۔"
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"مسجد میں الماری اس لیے بنائی جاتی ہےکہ اس میں مسجد کی چیزیں مثلاً:قرآن پاک،پنکھا،مصلی،وغیرہ رکھا جائے،کسی کو اپنا سامان تجارت کے لیے رکھنا مستقل طور پر اس کا حق نہیں،الماری خالی کردی جائے،"
(کتاب الوقف، باب احکام المساجد، ج: 630، ص:14، ط: ادارۃ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102134
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن