
بچوں سے فیس لے کر مسجد کی چھت پر قرآن مجید پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟
مسجد کی چھت مسجد ہی کے حکم میں ہے، اور مسجد میں مستقل مدرسہ بنانا جائز نہیں ہے، ہاں ضرورت اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے قرآن اور دین کی ضروریات کی تعلیم مسجد کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد کے اندر دینا جائز ہے، پس مسجد کے احترام کی رعایت رکھتے ہوئے مسجد کی چھت پر قرآن مجید کی تعلیم کے لیے عارضی درس گاہ بنانا جائز ہوگا ۔
تاہم مسجد میں قائم کردہمدرسہ میں بچوں کو فیس لے کر تعلیم دینا شرعاً مکروہ ہے، البتہ اگرمدرسہ کی اخراجات و ضروریات کا کوئی انتظام نہ ہو اور فیس لیے بغیر مدرسہ کا نظام چلانا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں فیس لےکر مسجد میں پڑھانے کی گنجائش ہے، تاہم مدرسہ کی انتظامیہ کو چاہیے کہ جلد از جلد مدرسہ کے لیے متبادل جگہ کابندوبست کرکے مدرسہ وہاں منتقل کردیں ۔
البحر الرائق میں ہے:
"فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأنّ المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن، ولايتعين مكان مخصوص لأحد."
(کتاب الصلاۃ،باب الحدث في الصلاة، فصل استقبال القبلة ... 36/2، ط: دارالکتاب الإسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد، 5/ 321، ط: رشیدیة)
فتاوی قاضی خان میں ہے :
"ويكره أن يخيط في المسجد لأنه أعد للعبادة دون الإكتساب وكذا الوراق والفقيه إذا كتب بأجرة أو معلم إذا علم الصبيان بأجرة. وإن فعلوا بغير أجر فلا بأس به."
(کتاب الطھارۃ، فصل فی المسجد، 1/ 43، ط: زکریا)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101817
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن