
ہمارے محلے کی مسجد میں ہر سال لوگ اعتکاف میں بیٹھتے ہیں،کچھ عرصہ پہلے تک وہ مسجد کے نیچے والے حصے میں جہاں محراب وغیرہ ہوتا ہےوہاں بیٹھتے تھے،اب دو سال سے مسجد کے اوپر والے حصے میں اعتکاف کیا جاتا ہے،اب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نیچے مسجد میں جگہ ہوتے ہوئے اوپر والی منزل پر اعتکاف کرنا درست نہیں ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اوپر والی منزل پر اعتکاف کرنا درست ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مسجد کی کونسی منزل پر اعتکاف کرنا افضل ہے؟
نوٹ: مسجد کی اوپر والی منزل پر معتکفین کے بیت الخلاء وغیرہ کی سہولیات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ جو جگہ ایک دفعہ شرعی مسجد کی حدود میں داخل ہوجائے وہ جگہ ہمیشہ کے لیے زمین کی تہہ سے لے کر آسمان تک سب مسجد کے حکم میں ہو تی ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں مسجد کی کسی بھی منزل پر اعتکاف کرنا شرعاً درست ہوگا،نیچے والی منزل اور اوپر والی منزل دونوں مسجد کے حکم میں داخل ہیں، البتہ اوپر چڑھنے اترنے کے لیے زینہ اگر مسجد کی حدود میں ہو تو بلا ضرورت بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اور زینہ اگر حدودِ مسجد سے خارج ہو تو طبعی یا شرعی ضرورت (قضائے حاجت اور وضو یا فرض غسل) کے بغیر اسے استعمال کرنے سے اعتکافِ مسنون فاسد ہو جائے گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"فهو اللبث في المسجد مع نية الاعتكاف كذا في النهاية،
(وأما شروطه) فمنها النية حتى لو اعتكف بلا نية لا يجوز بالإجماع كذا في معراج الدراية،
ومنها مسجد الجماعة فيصح في كل مسجد له أذان، وإقامة هو الصحيح كذا في الخلاصة، وأفضل الاعتكاف ما كان في المسجد الحرام ثم في مسجد النبي عليه الصلاة والسلام ثم في بيت المقدس ثم في الجامع ثم فيما كان أهله أكثر، وأوفر كذا في التبيين."
(کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف، ج:1، ص:211، ط:رشيدية)
البحر الرائق میں ہے:
"وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب، وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه منالمصالح ،فإن قلت: لو جعل مسجدا ثم أراد أن يبني فوقه بيتا للإمام أو غيره هل له ذلك قلت: قال في التتارخانية إذا بنى مسجدا وبنى غرفة وهو في يده فله ذلك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا يتركه وفي جامع الفتوى إذا قال عنيت ذلك فإنه لا يصدق. اهـ. فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره."
(كتاب الوقف، ج:5، ص:271، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101865
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن