بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کھولنے اور بند کرنے کے اوقات


سوال

مسجد کا دروازہ ہر نماز کی جماعت کھڑے ہونے کے وقت سے کتنی دیر پہلے کھولنا چاہییے؟ مثلا اگر فجر کی جماعت  4.30، ظہر کی جماعت 1.30،عصر کی جماعت 5.30، مغرب کی جماعت 7.30 اور عشاء کی جماعت 9.20 پر ہو تو مسجد کا دروازہ کس وقت کھولنا چاہییے؟

جواب

مساجد کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہوتی ہے،اس لیے کسی بھی وقت مسجد میں آنے سے کسی کو روکنا، یا  عمومی حالات میں مسجد کا دروازہ بند کرنا مکروہ ہے، تاہم مسجد یا اس کے سامان کی حفاظت کی غرض سے نمازوں کے اوقات کے بعد مسجد کو بند کرنے کی اجازت ہے، نیز جماعت سےپہلے مسجد کھولنے اور جماعت کے بعد بند کرنے میں کسی مخصوص وقت کی تعیین تو نہیں کی جاسکتی، البتہ اہل محلہ کی سہولت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ مسجد کھولنے اور بند کرنے کے لیے کوئی ایسا وقت متعین کرسکتی ہے، جس میں جماعت سے قبل اور جماعت کے بعد کے ایک مناسب وقت کی رعایت پائی جائے، بہر صورت اذان کے بعد ہر گز مسجد بند نہ رکھی جائے۔

رد المحتار میں ہے:

"(قوله غلق باب المسجد) الأفصح إغلاق، لما في القاموس: غلق الباب يغلقه لغية رديئة في أغلقه. اهـ. قال في البحر: وإنما كره لأنه يشبه المنع مع الصلاة، قال تعالى - {ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} [البقرة: 114]- ومن هنا يعلم جهل بعض مدرسي زماننا من منعهم من يدرس في مسجد تقرر في تدريسه، وتمامه فيه.

(قوله إلا لخوف على متاعه) هذا أولى من التقييد بزماننا لأن المدار على خوف الضرر، فإن ثبت في زماننا في جميع الأوقات ثبت كذلك إلا في أوقات الصلاة، أو لا فلا، أو في بعضها ففي بعضها، كذا في الفتح. وفي العناية: والتدبر في الغلق لأهل المحلة، فإنهم إذا اجتمعوا على رجل وجعلوه متوليا بغير أمر القاضي يكون متوليا انتهى بحر ونهر."

(کتاب الصلاۃ، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 656، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101108

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں