بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے تہہ خانے میں مدرسۃ البنات قائم کرنا


سوال

 ہمارے علاقے میں مسجد کا تہہ خانہ ہے،جو  ابتداء میں جمعہ کے دن نماز کے لیے استعمال ہوتا تھا، مسجد میں توسیع کے بعد تہہ خانہ بند کر دیا گیا اور اب کافی عرصے سے تہہ خانہ استعمال میں نہیں تھا ، اب انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تہہ خانے کی صفائی اور مرمت کر کے وہاں بنات کا مدرسہ قائم کیا جائے، اس بارے میں رہنمائی فرمادیں کہ تہہ خانے کے مسجد شرعی ہونے یا نہ ہونے دونوں صورتوں میں بنات کا مدرسہ قائم کرنے سے متعلق کیا حکم ہے؟ 

جواب

 مسجد کا تہہ خانہ  مسجد شرعی کے ہی حکم میں ہوتا ہے، ا ور مسجد شرعی کو مدرسہ میں تبدیل کرنے کا شرعا اختیار کسی کو نہیں ہوتا، لہذا مذکورہ تہہ خانہ مسجد کے لیے ہی مختص رہے گا،  وہاں بنات کا مدرسہ قائم کرنا جائز نہیں ہوگا،کیونکہ یہ مصالحِ وقف کے بھی خلاف  ہے ،نیز   ایسی صورت میں مسجد میں جب   مستورات  پڑھنے آئیں گی، تو    ناپاکی کے ایام میں بھی آنا پڑے گا،  جو کہ مسجد کی بے ادبی کو مستلزم ہے،  کیونکہ مسجد میں ناپاکی کی حالت میں ٹھہرنا بالکل جائز نہیں۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {‌وأن ‌المساجد ‌لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية."

(کتاب الوقف،فرع بناء بیتا للامام الخ،358/4،ط :ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لايجوز، كذا في الغياثية".

(کتاب الوقف، الباب الثانی فیما یجوز وقفہ،2 / 362، ط: رشیدیہ)

البحر الرائق  میں ہے:

"فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد للّٰه} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأنّ المسجد ما بني إلا لها من صلاة و اعتكاف و ذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن، ولايتعين مكان مخصوص لأحد."

(کتاب الصلاۃ، 2 / 36، ط: دارالکتاب الاسلامی، بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس ثمانية)(ومنها) أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور. هكذا في منية المصلي."

(کتاب الطھارۃ ،الباب السادس، الفصل الرابع،38/1،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101616

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں