
آپ حضرات سے ایک مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے۔ ہماری مسجد کا نام جامع مسجد رفیق ہے جو کہ صدف سوسائٹی میں واقع ہے ،اور اس مسجد کا جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون سے الحاق بھی ہے۔ ہماری مسجد میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے جس سے مسجد کی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سولر سسٹم کے ساتھ اگر KE کی نیٹ میٹرنگ کر لی جائے تو اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ دن میں سولر سے بننے والی ذائد بجلی رات میں استعمال کی جا سکے گی ،اور مسجد کےبجلی کے بل میں کافی کمی آئے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سولر سسٹم کی KE کی نیٹ میٹرنگ کروانا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہماری مسجد کے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا کروانا جائز نہیں۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ اگر ایسا کرنا جائز ہے تو ہم جلدازجلد اس کام کو کروا کر مسجد کی بجلی کی ضرورت کو بہتر طریقے سے کم رقم میں پورا کر سکیں گے اور اگر جائز نہیں تو ہم اپنا یہ ارادہ بالکل ختم کر دیں۔ جیسا آپ کی طرف سے جواب آئے گا ہم ویسا ہی عمل کریں گے۔
واضح رہے کہ مسجد کی املاک (خواہ سولر سسٹم ہو،یا کوئی اور چیز)کو صرف مسجد کے فائدے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،چونکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعہ سولر سسٹم سے دن میں ضرورت سے زائد بننے والی بجلی ضائع ہونے کے بجائے کے الیکٹرک کمپنی کوفروخت کی جاتی ہے،اور رات کو اس سے بجلی مسجد کے استعمال کے لیےخریدی جاتی ہے،اور نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے مسجد کی بل میں کافی کمی آتی ہے جس میں مسجد کا فائدہ ہے،اس لیے مسجد کے سولر سسٹم کا کے الیکٹرک میٹرنگ کروانا جائز ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"الفاضل من وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد، كذا في المحيط."
(كتاب الوقف ،الباب الحادي عشر،الفصل الثاني،ج: 2،ص: 463،ط: رشيديه)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"مسجد کی ضرورت سے زائد موم بتیاں فروخت کرنا
سوال: مسجد میں کسی نے موم بتیاں اس قدر دیدیں کہ ضرورت سے بہت زائد ہیں، اگر فاضل از ضرورت موم بتیوں کو فروخت کر کے مسجد کے دیگر مصارف میں صرف کریں تو جائز ہے یا نہ؟
الجواب:صورت مسئولہ میں مابقی موم بتیاں فروخت کر کے مسجد کے دیگر مصارف میں صرف کرنا جائز ہے، فی الشامی سئل شیخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها إلى الخرابــهل لواحد لأهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد؟ قال: نعم.اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کا سامان بہ وقت استغناء یعنی بوجہ ضرورت سے زائد ہونے کے، یا بوجہ مسجد کے ویران ہونے کے فروخت کر کے، اس کی قیمت مسجد کے دیگر مصارف میں صرف کرنا جائز ہے۔ فقط"
وفیہ ایضاً:
"مسجد کے زائد تیل کو بیچ کر امام کی تنخواہ دینا جائز ہے
سوال :مسجد میں جو تیل مسلمان لوگ یعنی اہل محلہ روشنی کی غرض سے بھیجتے ہیں، اگر وہ زائد ہو تو اس کو فروخت کر کے مسجد کے امام کی تنخواہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ یا کسی اور کام میں مسجد کے اس کی قیمت صرف کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: زائد تیل کو فروخت کر کے مسجد کے دوسرے کاموں میں لانا اور خرچ کرنا درست ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو امام کی تنخواہ میں صرف کرنا بھی جائز ہے کہ یہ بھی مسجد کی ضروریات میں سے ہے۔"
(وقف کا بیان،ج: 13،ص: 499،ط:دارالعلوم دیوبند)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100981
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن