
ایک شخص مسجد کی تعمیر کے لیے دس مرلہ زمین اس شرط پر بیچنا چاہ رہا تھا کہ جو کوئی بھی یہ دس مرلہ زمین مسجد بنانے کے لیے خریدے گا، اسے مزید دس مرلہ زمین مسجد کے لیے بطورِ وقف (مفت) دی جائے گی۔ جب میرے دو واقف کار ساتھیوں کو اس بات کا علم ہوا، تو انہوں نے مجھے یہ زمین خریدنے کی ترغیب دی اور اس علاقے اور زمین کی بہت سی خوبیاں بیان کیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک بار ویڈیو کال کے ذریعے مجھے وہ زمین بھی دکھائی اور کہا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے یہ جگہ اور علاقہ بہت مناسب ہے۔ظاہر ہے کہ ویڈیو کال پر کسی جگہ کو دیکھنے اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
بہرحال، ویڈیو کال پر زمین اور علاقہ دیکھ کر میں نے اسے مناسب سمجھا اور حامی بھر لی۔ اس طرح مسجد کے لیے مختص یہ زمین بیس یا بائیس لاکھ روپے میں خریدنے کا سودا طے پا گیا۔لیکن جب میں پاکستان آیا اور خود جا کر اس زمین کو دیکھا، تو وہ مجھے پسند نہیں آئی۔
اس وقت صورتحال درج ذیل ہے:مجھے مسجد کے لیے مختص کی گئی یہ زمین ذاتی طور پر پسند نہیں آئی۔زمین کا سابقہ مالک مجھ پر جلدی مسجد بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔مسجد کی اس موجودہ جگہ کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود نہیں۔اگر اس کے متبادل کوئی دوسری جگہ لی جائے، تو وہاں دیکھ بھال اور حفاظت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔موجودہ جگہ پر علاقے کے بااثر طبقے اور قبضہ مافیا کا قبضہ ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ ایک مرتبہ اللہ نے اسے قبضے سے بچا بھی لیا تھا۔اس موجودہ جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کے لیے فی الحال فنڈز (مالی وسائل) بھی موجود نہیں ہیں۔
ان حالات میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں مسجد کے لیے خریدی گئی یہ زمین بیچ دوں اور اسی رقم سے کسی دوسری مناسب جگہ پر مسجد کے لیے زمین خرید لوں؟
2۔کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں یہ زمین کسی ایسے شخص کو بیچ دوں جو وہاں مسجد بنانا چاہتا ہو، اور خود دوسری جگہ مسجد بنانے کی نیت ختم کر کے وہ رقم اپنے ذاتی استعمال میں لے آؤں؟
3۔زمین کا مالک اب کبھی کبھی کہتا ہے کہ 'میں نے یہ زمین آپ کو مسجد بنانے کے لیے بیچی تھی، آپ نے اب تک مسجد کیوں نہیں بنائی؟ اگر آپ نے مسجد نہ بنائی تو میں اپنی وقف کردہ زمین واپس لے لوں گا'۔ (جبکہ میرا موقف یہ ہے کہ جب مالک نے زمین مسجد کے لیے وقف کر دی اور سودا ہو گیا، تو اب میری مرضی ہے کہ میں فنڈز کا انتظام کر کے ایک دن میں مسجد کھڑی کروں یا دس بیس سال میں)۔
4۔کیا جلدی مسجد نہ بنانے کی صورت میں مالک کا مجھ پر دباؤ ڈالنا یا زمین واپس لینے کی دھمکی دینا شرعاً جائز ہے؟
میں مالک کی ان باتوں سے ذہنی طور پر پریشان ہوں اور چاہتا ہوں کہ یہ جگہ بیچ کر اسی رقم سے دوسری جگہ مسجد کے لیے زمین خرید لوں۔کیا ایسا کرنا میرے لیے جائز ہے؟
1۔ صورت مسئولہ میں سائل نے مذکورہ جگہ چوں کہ مسجد کے لیے ہی خریدی تھی، لہذا اس جگہ پر مسجد بنانا ہی ضروری ہوگا، مذکورہ جگہ فروخت کرکے مسجد کے لیے دوسری جگہ خریدنے کی شرعی اجازت نہیں ہوگئی۔
2۔مذکورہ جگہ کسی ایسے شخص کو فروخت کرنا جو اس جگہ مسجد بنانا چاہتا ہو ،اور حاصل شدہ رقم اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ۔
3۔فروخت کندہ کو سوداختم کرنے کا شرعاًاختیار نہیں ، سائل فنڈ کے انتظام تک تعمیرات موقوف رکھ سکتا ہے۔
4۔ایسا کرنے کا فروخت کندہ کو شرعاً اختیار نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية."
(كتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع، ج:2، ص:362، ط:دار الفكر بيروت)
وفيہ أيضاً:
"سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا. وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة."
(الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، ج:2، ص:470، ط: دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی ہے:
"(ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عند الامام، والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتى) حاوي القدسي
مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح. اهـ."
( کتاب الوقف، ج:4، ص:358، ط:سعید)
بحر الرئق میں ہے:
"وظاهر قولهم أن الوقف لا يملك ولا يباع يقتضي أن الوقفية لا تبطل بالخراب ولا تعود إلى ملك الواقف ووارثه وأنه لا يجوز الاستبدال ولذا قال الإمام قاضي خان ولو كان الوقف مرسلا لم يذكر فيه شرط الاستبدال لم يكن له أن يبيعها ويستبدل بها وإن كانت أرض الوقف سبخة لا ينتفع بها لأن سبيل الوقف أن يكون مؤبدا لا يباع وإنما تثبت ولاية الاستبدال بالشرط وبدون الشرط لا تثبت فهو كالبيع المطلق عن شرط الخيار لا يملك المشتري رده وإن لحقه في ذلك غبن اهـ.
وفي الخلاصة وفي فتاوى النسفي بيع عقار المسجد لمصلحة المسجد لا يجوز وإن كان بأمر القاضي وإن كان خرابا"
( کتاب الوقف، ج:5،ص:233، ط:سعید )
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
" جو جگہ مسجد ہو چکی، وہ ہمیشہ کو ابد الآباد تک مسجد رہتی ہے، اس کو مکانِ سکونت بنانا یا کرائے پر دینا درست نہیں ہے، اس کو ہمیشہ مسجد ہی رکھنا چاہیے۔
وہ مسجد ہمیشہ کو مسجد رہے گی اس کو منتقل کرنا درست نہیں ہے، اگر دوسری بڑی مسجد بنائی جائے تو یہ درست ہے، لیکن وہ چھوٹی مسجد بھی مسجد رہے گی اس کو بھی محفوظ رکھا جائے۔ "
(کتاب الوقف، ج:13، ص:385، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101317
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن