
اگر کوئی انسان اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا کوئی حصہ مسجد کے لیے وقف کر دے، اور اس جائیداد کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اسے بقیہ جائیداد سے الگ بھی کر دیا گیا ہو، اور اپنی زندگی ہی میں پانچ سات گواہان کی موجودگی میں مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ بھی جمع کر چکا ہو، اور اس کے فوت ہونے کے بعد بھی اس جائیداد کے لیے مسجد کے نام پر چندہ اکٹھا ہوا ثابت ہو، اور گواہان بھی موجود ہوں، تو اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی اولاد اس جائیداد کو اپنی ذاتی استعمال میں یعنی گھر بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ جب کوئی زمین حد بندی کر کے مسجد کے لیے وقف کردی جائے تو وقف کرتے ہی وہ جگہ واقف کی ملکیت سے نکل کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے،بعد ازاں واقف یا اس کے ورثاء کو وقف باطل کرکے اپنی ملکیت میں لینے کا اختیار نہیں رہتا، اور نہ ہی انہیں اس میں مالکانہ تصرفات کاحق رہتا ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ زمین کی حدود اربعہ واضح کر کے اس کو مسجد کے لیے وقف کردیا گیا تو اب مرحوم کی اولاد کے لیے اس زمین کوذاتی استعمال میں لانااورگھرتعمیر کرناجائز نہیں ،بلکہ اس جگہ مسجد تعمیر کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني
(قوله: وشرط محمد والإمام الصلاة فيه)....«وأنه لو قال وقفته مسجدا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لا يصير مسجدا بلا حكم وهو بعيد كذا في الفتح ملخصا. ولقائل أن يقول: إذا قال جعلته مسجدا فالعرف قاض، وماض بزواله عن ملكه أيضا غير متوقف على القضاء، وهذا هو الذي ينبغي أن لا يتردد فيه نهر.
قلت يلزم على هذا أن يكتفى فيه بالقول عنده، وهو خلاف صريح كلامهم تأمل وفي الدر المنتقى وقدم في التنوير والدرر والوقاية وغيرها قول أبي يوسف وعلمت أرجحيته في الوقف والقضاء."
(کتاب الوقف ،ج:4، ص: 356، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) أما الإفراز فإنه لا يخلص لله تعالى إلا به وأما الصلاة فيه فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد فيشترط تسليم نوعه وذلك في المسجد بالصلاة فيه أو لأنه لما تعذر القبض يقام تحقق المقصود مقامه ثم يكتفى بصلاة الواحد لأن فعل الجنس يتعذر فيشترط أدناه وعن محمد تشترط الصلاة بالجماعة لأن المسجد مبني لذلك في الغالب وصححها الزيلعي تبعا لما في الخانية لأن قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به وذلك في المسجد بأداء الصلاة بالجماعة أما الواحد يصلي في كل مكان.
وقال أبو يوسف يزول ملكه بقوله جعلته مسجدا لأن التسليم عنده ليس بشرط لأنه إسقاط لملك العبد فيصير خالصا لله تعالى بسقوط حق العبد وصار كالإعتاق.
(کتاب الوقف، فصل اختص المسجد باحکام تخالف مطلق الوقف، ج:5، ص:268، ط:دار الکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن