بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے خادمین اگر بعد میں مسجد کی حدود سے باہر جماعت کریں تو کیا انہیں جماعت کا ثواب مکمل ملے گا؟


سوال

ایک بندہ نماز کے دوران مسجد کی نگرانی کرتا ہے اور پھر جماعت ختم ہونے کے بعد وہ چند لوگوں کے ساتھ مل کر علیحدہ جگہ پر یعنی اس جگہ پر جو مسجد کی حدود میں نہ ہو، تو کیا ان حضرات کو جماعت کا پورا ثواب ملے گا یا کم ملے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مسجد کے خادموں کو مسجد کی جماعت میں شریک ہونے سے نمازیوں کی جان یا مال کے نقصان کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں خادمین مسجد کی حدود سے باہر ہی جماعت کرا لیں۔ اس صورت میں جماعت کا ثواب مکمل ملے گا، لیکن مسجد کی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔

اور اگر نمازیوں کی جان و مال کو کوئی خطرہ نہ ہو، تو خادمین کو چاہیے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں تاکہ وہ مسجد کی فضیلت سے محروم نہ رہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وخوف على ماله (قوله وخوف على ماله) أي من لص ونحوه إذا لم يمكنه غلق الدكان أو البيت مثلا، ومنه خوفه على تلف طعام في قدر أو خبز في تنور تأمل، وانظر هل التقييد بماله للاحتراز عن مال غيره؟ والظاهر عدمه: لأن له قطع الصلاة له ولا سيما إن كان أمانة عنده كوديعة أو عارية أو رهن مما يجب عليه حفظه تأمل"

(کتاب الصلاۃ، باب الامامة، ج:1، ص:556، ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں  ہے:

"وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة. كذا في التبيين وتسقط بالريح في الليلة المظلمة وأما بالنهار فليست الريح عذرا وكذا إذا كان يدافع الأخبثين أو أحدهما أو كان إذا خرج يخاف أن يحبسه غريمه في الدين أو يريد سفرا وأقيمت الصلاة فيخشى أن تفوته القافلة أو كان قيما لمريض أو يخاف ‌ضياع ‌ماله وكذا إذا حضر العشاء وأقيمت صلاته ونفسه تتوق إليه، وكذا إذا حضر الطعام في غير وقت العشاء ونفسه تتوق إليه. كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصلاۃ، فصل فی الجماعة، ج:1، ص:83، ط:رشیدیة)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"قوله: "وخوف ظالم" أي على نفسه أو ماله أو خوف ‌ضياع ‌ماله أو خوف ذهاب قافله لو اشتغل بالصلاة جماعة"

(کتاب الصلاۃ ،فصل یسقط حضور الجماعة بواحد من ثمانیة عشر شیئا،ص:297،ط:دار الکتب العلمیة )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101758

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں