بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کو بیچ کر اس کی قیمت سے دوسری زمین خریدنا


سوال

ایک پلاٹ تقریبا 30 مرلہ کا مسجد کے لیے وقف دیا گیا ہے، یعنی یہ  زمین اس نیت سے دی گئی ہے کہ یہاں مسجد تعمیر کی جائے، زمین وقف کرنے والے نے یہ بات کہی  تھی کہ اس زمین کو تبدیل کیاجاسکتا ہے،  لیکن جب ہم نے مسجد کا نقشہ بنوانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ موجودہ پلاٹ پر مسجد تعمیر کی جائے تو وہ آڑی ترچھی بنے گی، جو ترتیب ، صف بندی اور تعمیراتی لحاظ سے غیر موزوں ہے،وجہ یہ ہے کہ جب مسجد کا ہال بنا ئیں تو اس کےبالکل  پیچھے   کسی اور کا پلاٹ ہے ،اور وقف شد ہ پلاٹ کا دوسرا حصہ اس پچھلے پلاٹ کے دائیں جانب ہے، جس سے مسجد کا صحن اور بال متوازی نہیں رہتے۔

اگر متولی مسجد یا مسجد کی کمیٹی وقف شد ہ پلاٹ کے اس حصے کو، جس کی وجہ سے نقشے میں مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، فروخت کر دیں، اور اس کی قیمت سے ساتھ والے پلاٹ کا کچھ حصہ خرید کر شامل  کر لیں، تو مسجد کا نقشہ بالکل درست، متوازی اور خوبصورت انداز میں بن سکے گا۔

کیا  شرعاً  متولی مسجد یا کمیٹی کے لیے یہ جائز ہے کہ وقف شد ہ پلاٹ کا وہ حصہ جومسجد کی تعمیر میں رکاوٹ بن رہا ہے ، فروخت کر کے اس رقم سے متصل پلاٹ کاکچھ حصه خرید لیں اور اسے مسجد میں شامل کر دیں ؟

کیا اس طرح کا تصرف وقف کی شرائط اور شرعی اصولوں کے مطابق ہو گا ؟ 

کیا کسی مفتی یا دار الافتاء سے اجازت لینا یا عدالت شرعی کا فیصلہ لینا ضروری ہو گا؟ 

جواب

 صورت مسئولہ میں     اگر واقعتا واقف نے جگہ کو وقف کرتے ہوئے استبدال کی شرط کے ساتھ وقف کیا تھا یعنی استبدال کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا  تھا  کہ ضرورت کی بنیاد پر اسے فروخت کرکے دوسری جگہ خریدی جاسکتی ہے تو اس صورت میں  ضرورت کی بنیاد پر  واقف کے لیے جائز ہوگا کہ اس جگہ کو    فروخت کرکے اس کے بدلے برابر والے پلاٹ   خرید کر خود  مسجد تعمیر کرے یا یا کسی اور کو اس کے لیے متولی بنائے  ،نیز واقف کی طرف سے وقف کے وقت استبدال کی شرط ہونا کافی ہے ،اس کے بعد قاضی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے،لیکن اگر واقف نے وقف کرتے وقت استبدال کی شرط نہیں لگائی تھی اور یہ اختیار استبدال اپنے ہاتھ میں نہیں رکھا تھا ،بلکہ  مطلقاً وقف کردیا تھا تو پھر بعد میں استبدال کا اختیار  خود استعمال کرنے یا کسی کو متولی کو دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا ،بلکہ اس وقف شدہ جگہ پر جس طرح مسجد بن سکتی ہو  اس طرح بنالی جائے  ،لہذا جو صورت واقع کے مطابق ہو اس پر عمل کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار."

(کتاب الوقف ،ج:4، ص:384، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني

(قوله: وشرط محمد والإمام الصلاة فيه)....«وأنه لو قال وقفته مسجدا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لا يصير مسجدا بلا حكم وهو بعيد كذا في الفتح ملخصا. ولقائل أن يقول: إذا قال جعلته مسجدا فالعرف قاض، وماض بزواله عن ملكه أيضا غير متوقف على القضاء، وهذا هو الذي ينبغي أن لا يتردد فيه نهر.

قلت يلزم على هذا أن يكتفى فيه بالقول عنده، وهو خلاف صريح كلامهم تأمل وفي الدر المنتقى وقدم في التنوير والدرر والوقاية وغيرها قول أبي يوسف وعلمت أرجحيته في الوقف والقضاء."

(کتاب الوقف ،ج:4، ص: 356، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"في فتاوى الحجة لو صار أحد المسجدين قديما وتداعى إلى الخراب فأراد أهل السكة بيع القديم وصرفه في المسجد الجديد فإنه لا يجوز، أما على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - فلأن المسجد وإن خرب واستغنى عنه أهله لا يعود إلى ملك الباني، وأما على قول محمد - رحمه الله تعالى -: وإن عاد بعد الاستغناء ولكن إلى ملك الباني وورثته، فلا يكون لأهل المسجد على كلا القولين ولاية البيع والفتوى على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا يعود إلى ملك مالك أبدا، كذا في المضمرات."

(کتاب الوقف، الباب الحادی عشر،الفصل الاول ،ج:2، ص :458،ط:رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101143

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں