بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے خدام کا دورانِ خطبہ انتظامی امور سرانجام دینے کا حکم


سوال

مسجدوں کے اندر جو خدام  ہوتے ہیں، کیا وہ خطبہ کے دوران انتظامی امور سرانجام دے سکتے ہیں ؟اور  یہ کام مسجد کے کمیٹی والے انہیں سپرد  کر دیتے ہیں ،انتظامی امور سے مراد  خطبہ کےدوران ضرورت پڑنے پر صفیں بچھانا، جو لوگ  باہر یا راستے میں  بیٹھتے  ہیں، انہیں اندر کی طرف بھیجنا اور دروازہ کھولنا وغیرہ ۔

جواب

واضح رہے کہ خطبہ کے دوران(  چاہے وہ جمعہ کا ہو یا نکاح و عیدین کا)  سامعین کو شرعاً خاموشی اور پوری توجہ کے ساتھ خطبہ سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ شریعت نے ہر اُس قول و فعل سے منع فرمایا ہے جو انسان کو خطبہ سننے سے  مشغول کر دے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد کے خدام کا دورانِ خطبہ کسی بھی قسم کے انتظامی امور سرانجام دینا، یا کمیٹی اراکین کا اُنہیں اس کی ہدایت دینا جس کی وجہ سے خطبہ سننے میں خلل واقع ہوشرعاً جائز نہیں خواہ وہ کام کسی بھی نوعیت  سے تعلق رکھتا ہو۔ ایسے تمام انتظامی امور خطبہ شروع ہونے سے پہلے ہی مکمل کر لینا ضروری ہے۔ البتہ اگر کسی  جگہ پر اشد ضرورت پیش آجائے یا  ایسا انتظامی کام جو پہلے نہیں کیا جاسکتا ہو اور خطبہ کے وقت اس کی حاجت پیش آتی ہو مثلاً نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے راستہ یا ایسی جگہ چٹائیاں بچھانا جہاں پہلے سے نہیں بچھائی جاسکتی ہو تو اس صورت میں بات چیت سے گریز کرتے ہوئے بالکل خاموشی کے ساتھ بقدر ضرورت مذکورہ کام سر انجام دیا جائے، اور لوگوں کو محض اشاروں کے ذریعے اندر آنے یا بیٹھنے کی ہدایت دی جائے، بشرطیکہ اس سے خطبہ سننے میں کوئی خلل واقع نہ ہو؛ تو ایسی صورت میں گنجائش ہوگی۔

مرقاة المفاتيح  میں ہے :

"قوله عليه الصلاة والسلام إذا ‌خرج ‌الإمام ‌فلا ‌صلاة ‌ولا ‌كلام".

‌‌(كتاب الصلاةِ،باب الخطبة والصلاة،ج:3،ص: 1046،ط:دار الفكر)

بذل المجہودفي حل سنن أبي داود میں ہے :

"وأما ‌محظورات ‌الخطبة فمنها: أنه يكره الكلام حالة الخطبة، وكذا قراءة القرآن وكذا الصلاة، ثم قال: وكذا كل ما شغل عن سماع الخطبة من التسبيح والتهليل والكتابة ونحوها، بل يجب عليه أن يستمع ويسكت".

(كتاب الصلاة،باب: إذا دخل الرجل والإمام يخطب، ج:5،ص: 175،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية)

بدائع الصنائع  ميں  ہے :

"وكذا كل ما شغل عن سماع الخطبة من التسبيح والتهليل والكتابة ونحوها بل يجب عليه أن يستمع ويسكت وأصله قوله تعالىٰ:{وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا} [الأعراف: 204]قيل نزلت الآية في شأن الخطبة أمر بالاستماع والإنصات ومطلق الأمر للوجوب".

(كتاب الصلاة،فصل بيان شرائط الجمعة، حكم الخطبة، ج:1، ص264، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"أن كل ما حرم في الصلاة حرم في الخطبة؛ فيحرم أكل وشرب وكلام ولو تسبيحا أو رد سلام أو أمرا بمعروف إلا من الخطيب لأن الأمر بالمعروف منها بلا فرق بين قريب وبعيد في الأصح ولا يرد تحذير من خيف هلاكه لأنه يجب لحق آدمي وهو محتاج إليه، والإنصات لحقه تعالى، ومبناه على المسامحة والأصح أنه لا بأس، بأن يشير برأسه أو يده عند رؤية منكر، وكذا الاستماع لسائر الخطب كخطبة نكاح وختم وعيد على المعتمد." 

(كتاب الصلوة، باب الجمعة، ج:1، ص:545، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

 سوال :خطبہ کے جمعہ کے وقت بچے شور اور شرارت کرتے ہیں تو ان کو روکا جاسکتاہے یا نہیں ؟

جواب:سراورہاتھ کے اشارے سےروکا جاسکتاہے ،زبان سے کچھ نہ کہے،زبان سے بولنا جائز نہیں حرام ہے، البتہ خطیب کو اجازت ہے ۔

(کتاب الصلوٰۃ،متفرق صلوٰۃ،ج:6،ص:128،ط: دار الاشاعت)

فتاوی حقانیہ میں ہے:

سوال :اگر ایک شخص دوران خطبہ جمعہ کسی کو منکر کام کرتے  دیکھے اور اس کو اشارہ سے منع کرے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب:دوران خطبہ ہر ایسا عمل جو استماع خطبہ کےمنافی ہو کرنا جائز نہیں البتہ کسی کو منکر کام کرتے دیکھ کر اشارہ سے منع کرے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ۔

(کتاب الصلوٰۃ،باب الجمعۃوالعیدین،ج:3،ص:400 ،ط: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک )

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101160

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں