بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے فنڈ سے حافظ صاحب کو ہدیہ دینے کا حکم


سوال

مسجد میں جمع شدہ رقم سے تراویح پڑھانے والے حافظِ قرآن کو ہدیہ یا تحفہ دینا اور اس رقم کو لینا حافظِ قرآن کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ تراویح پڑھانے پر اجرت کا لین دین جائز نہیں ہے، خواہ وہ تحفہ کے نام سے دی جائے یا ہدیہ کے نام سے، اسی طرح کسی بھی مد سے دی جائے بہر حال یہ درست نہیں ہے۔تاہم مسجد کے فنڈ سے ہدیہ دینا جائز نہیں، البتہ اگر کسی جگہ پر کوئی اجرت یا ہدیہ کالین دین متعین نہ کیاجائے، نہ ہی وہاں پر اجرت یا ہدیہ کے لین دین کا رواج ہو، اور اتفاقاً حافظِ قرآن کو درمیان یا آخر میں کچھ رقم ہدیہ کے نام سے دے دی جائے، تو یہ رقم حافظ صاحب کے لیے لینا جائز ہے۔

حاشية ابن عابدين میں ہے:

"القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز، وأن الآخذ والمعطي ‌آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة، ونفس الاستئجار عليها لا يجوز، فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب؛ وإنما أفتى المتأخرون بجواز الاستئجار على تعليم القرآن لا على التلاوة وعللوه بالضرورة وهي خوف ضياع القرآن، ولا ضرورة في جواز الاستئجار على التلاوة."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ٢/ ٧٣، ط: سعيد)

الجوهرة النيرة میں ہے:

"لا يجوز ‌للوكيل ‌أن ‌يتصرف ‌إلا فيما جعل إليه."

(كتاب آداب القاضي، ٢/ ٢٤٥، ط: المطبعة الخيرية)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101272

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں