بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد انتظامیہ کا امام کو تراویح میں قرآن سنانے کی بنیاد پر اضافی تنخواہ دینا


سوال

حضرت اگر کوئی شخص حافظ قرآن ہے اور وہ پورے سال تو کام کرتا ہے صرف رمضان میں امامت کراتا ہے اور تراویح میں قرآن سناتا ہے ،مثلاً وہ شخص اس مسجد میں جس میں امامت کراتا ہے رمضان میں پچیس یا ستائیس دن تک تراویح میں قرآن بھی سناتا ہے اور پھر ختم تراویح کی دعا کے دن ہی اہل محلہ حضرات اس کو امامت کے ساتھ مزید رقم بڑھا کر دیتے ہیں ، مثلاً امامت کی تنخواہ طے ہوئی تھی دس ہزار لیکن وہ اس امام کو پندرہ یا بیس ہزار روپے دیتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اس شخص کو یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں، کیا یہ پوری رقم یا آدھی رقم قرآن سنانے کی اجرت میں داخل ہوگی ؟ برائے کرم جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں ، نوازش ہوگی ۔

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ امام کو تنخواہ اِس وضاحت کےساتھ دی جاتی ہے کہ اِس میں اتنی رقم امامت اور بقایا تراویح کے عوض ہے،یا  اہلِ محلہ چندہ کر کے خاص تراویح کی وجہ سے امام کو رقم دیں تو اِس کے لیے تراویح کے عوض ملنے والی رقم لینا جائز نہیں ہے۔

البتہ  اگر مسجد انتظامیہ/کمیٹی رمضان المبارک میں عیدبونس/ الاؤنس یا اضافی مشاہرے کی صورت میں امام کے ساتھ تعاون کردے تو یہ تراویح کی اجرت میں داخل نہیں ہوگا، اور جائز ہوگا۔ اسی طرح کوئی مقتدی بلاتعیین اپنے طور پر امام کو کوئی ہدیہ وغیرہ دے تو وہ بھی تراویح کی اجرت میں داخل نہیں ہوگا۔

فتاوی رشیدیہ جدید میں ہے:

” حافظوں کو اجرت پر قرآنا سنانا حرام ہے اور اجرت بھی ناجائز ہے اذان و امامت اور تعلیم ووعظ اس کو متاخرین نے بوجہ ضرورت استثناء کیا ہے۔ قرآن سنانے میں کوئی ضرورت نہیں جس نے قرآن سنانے کو اذان پر قیاس کیا ہے وہ غلط ہے۔ “

(کتاب الصلوۃ، باب التراویح، ج:۲، ص:۵۸، ط:المکتبۃ الحنفیۃ)

کفایت المفتی میں ہے:

”متأخرین فقہائے حنفیہ نے امامت کی اجرت لینے دینے کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، پس اگر امام مذکور سے معاملہ امامت نماز سے متعلق ہوا تھا تو درست تھا، لیکن قرآنِ مجید تراویح میں سنانے کی اجرت لینا دینا جائز نہیں ہے، اگر معاملہ قرآن مجید  سنانے کے  لیے ہوا تھا تو ناجائز تھا ۔“

(کتاب الصلاۃ، ج:۳، ص:۴۱۰ ،ط:دارالاشاعت)

امداد الاحکام میں ہے:

”جو شخص مسجد کا امام معین نہیں اس کو محض تراویح سنانے پر کچھ روپیہ لینا ناجائز ہے۔ اور اگر امام مسجد ہے تو اس کو محض تنخواہ معینہ کا لینا جائز ہے ، تراویح سناکر اس سے زیادہ لینا ناجائز ہے خواہ کسی غرض کے لیے لیا جائے۔ “

(کتاب الاجارۃ، ج:۳، ص:۵۳۴، ط:مکتبۃ دارالعلوم کراچی)

جواہر الفقہ جدید  میں ہے:

”کسی جگہ حافظ قرآن سنانے والا نہ ملے، یا ملے مگر سنانے پر اجرت و معاوضہ طلب کرے، تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں اجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔“

(احکام رمضان المبارک ، ج:۳، ص:۵۲۲، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

زبدة النهاية لعُمدة الرعاية على شرح الوقايةمیں ہے:

"فتفكر وتدبر ليظهر عليك قوّة دليل عدم جواز الإستئجار على قراءة القرآن لإتصال الثواب إلى الميت وان كان على القبر أو لا، والإستئجار على ختمِ القرآن في التراويح كما اعتاده الحفّاظُ في زماننا فإنهم يعينون الأجر من قبل، يجبرون المستأجر عليه، والحالُ أنّ الختم في التراويح سنة لاواجبة، والقياس على حجِ البدل قياس مع الفارق."

(كتا ب الإجارة، ج:، ص:562، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں