
سوال یہ ہے کہ جو وظیفہ حکومت امام صاحبان کو دے رہی ہے 25000ہزار روپے یہ ملنے کے بعد مسجد انتظامیہ جو تنخواہ دے رہی ہے اس کو روک دیتی ہے کیا اس طرح کرنے سے مسجد انتظامیہ قیامت کے دن جواب دہ ہو گی یا نہیں شرعی رہنمائی فرمائیں؟
ملحوظ رہے کہ امام کا وظیفہ مقرر کرنا مسجد کے مصالح میں سے ایک اہم مصلح ہے، جس کی مقدار پر امام اور کمیٹی کا باہم متفق ہونا شرعا لازم ہے، لہذا جو وظیفہ انتظامیہ نے مقرر کیا ہے اس کو روکنے میں اگر امام کی رضامندی شامل نہیں تو یہ وظیفہ روکنا خلاف شرع ہوگا۔
بخاری شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره)."
(کتاب الإجارۃ، باب إثم من منع أجر الأجیر،ج:2،ص:792،رقم:2150،ط:دار إبن کثیر)
ترجمہ:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین ایسے شخص ہیں کہ قیامت کے دن میں ان سے جھگڑوں گا ایک وہ آدمی کہ جس نے میرے نام کی قسم کھائی اور پھر اس نے وہ قسم توڑ ڈالی۔ دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد آدمی کو پکڑ کر فروخت کر دیا اور پھر اس کی قیمت کھا گیا۔ تیسرا وہ آدمی جس کو کسی نے مزدوری پر لگایا اور اس سے پورا کام لیا یعنی جس کام پر لگایا تھا وہ مکمل کروایا مگر اس کو مزدوری نہ دی۔ "
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: تجوز الزيادة من القاضي إلخ) أي إذا اتحد الواقف والجهة كما مر في المتن، وفي البحر عن القنية قبيل فصل أحكام المسجد، يجوز صرف شيء من وجوه مصالح المسجد للإمام إذا كان يتعطل لو لم يصرف إليه يجوز صرف الفاضل عن المصالح للإمام الفقير بإذن القاضي، ولو زاد القاضي في مرسومه من مصالح المسجد، والإمام مستغن وغيره يؤم بالمرسوم المعهود تطيب له الزيادة لو عالما تقيا۔"
(کتاب الوقف ، مطلب في زيادة القاضي في معلوم الإمام،ج:4،ص:436،ط:دار الفکر)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100243
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن