
ہمارے علاقے کی جامعہ مسجد میں نئے قالین بچھائے گئے ۔ اچھا خاصا ٹائم گزرنے کے بعد اب قالین دھلوائے گئے ہیں۔
جس کا طریقہ کار کچھ یوں تھاکہ ایک پانی کی بالٹی میں liquid soap والا پانی بنایا گیا اور اس پانی کو مشین میں ڈال کر قالین کو صاف کیا گیا ۔ اس مشین کے نیچے سے وہ جھاگ والا پانی قالین پر اتنا ڈالا گیا کے قالین پانی سے تر ہو گئے اور پھر vacuum کے ذریعے اس جھاگ والے پانی کو سونت لیا گیا ۔ اس کے بعد اس پر صاف پانی نہیں ڈالا گیا ۔ کیا ایسا کرنے سے قالین میں اور زیادہ گندی نہیں ہو گئی ؟ اور اس پر اب نماز پڑھنا جائز ہے ؟
صفائی کے مذکورہ جدید مشینی طریقہ سے اگر قالین کا صرف میل صاف کرنا مقصد تھا،قالین پر کوئی نجاست نہیں لگی تھی تو صابن والے پانی یا کیمیکل سے صاف کرنے کے بعد اگر صاف پانی نہ بھی بہایا گیا ہو تو شرعا وہ قالین پاک ہی شمار ہوں گے، اور اس پر نماز پڑھنا شرعا جائز ہوگا۔تاہم بہتر یہ کہ مسجد کے قالین مسجد کی حدود سے باہر کسی جگہ صاف کرلیے جائیں، البتہ اگر مسجد سے قالین اٹھا کر لے جانا مشکل ہو، تو مسجد میں ہی دھلائی کرنے کی گنجائش ہوگی۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"قلت: وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي، ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذير المسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه ورأيت تأليفا مستقلا في المنع من ذلك."
(کتاب الوقف،ج4،ص358،ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101538
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن