
میں نے اپنے محلے کے مسجد میں ایک قیمتی قالین کا جائے نماز محراب میں بچھانے کے لئے دیا تھا تاکہ امام صاحب اس پر نماز ادا کرسکیں، لیکن چند دنوں کے بعد امام صاحب نے وہ جائے نماز وہاں سے ہٹوادیا بغیر کوئی وجہ بتائےہوئے، جس کی وجہ سے مجھے دلی تکلیف ہوئی ؛ایک تو جائےنماز بہت قیمت تھی ،اور دوسرا وہ جائے نماز ہمارے دل کے بہت قریب تھی، ہمارے والدہ کو شادی میں ملی تھی۔ کیا اب میں اس جائے نماز کو واپس لے سکتا ہوں اور اس کو میں خود استعمال کرسکتا ہوں یا کسی اور مسجد میں دینا ہوگا؟اور اگر نہیں لے سکتا واپس ،تو پھر اس جائے نماز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۔ نشر مکرر۔ میں نے جائے نماز کو صرف اورصرف محراب میں امام صاحب کے لئے دیا تھا تاکہ ہمیں ثواب ملتا رہے۔
نوٹ۔ اب محراب میں ایک معمولی سی جائے نماز بچھی ہوئی ہے۔ اور ہمارے امام صاحب کے ساتھ اور امام صاحب کے میرے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
صورت مسئولہ میں جب امام وہ جائے نمازاستعمال نہیں کررہے اور اس کےضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو سائل کو چاہے کہ اس کو کسی اور قریبی مسجد میں دیدے جہاں اس کی ضرورت ہو ،واپس اپنے استعمال کے لئے نہیں لے سکتا،نیز سائل کو چاہئےکہ امام صاحب کے ساتھ تعلقات خراب نہ کرے ہوسکتاہے کہ امام صاحب نے وہ جائے نماز کسی معقول وجہ کی بناء پر ہٹوایا ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(حشيش المسجد وحصره مع الاستغناء عنهما و) كذا (الرباط والبئر إذا لم ينتفع بهما فيصرف وقف المسجد والرباط والبئر) والحوض (إلى أقرب مسجد........"
(کتاب الوقف،ج:4، ص:359، ط: ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد ومایتعلق به،الفصل الثاني في الوقف وتصرف القیم........، 462/2، ط: دار الفكر- بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100316
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن