بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مشورہ طلب کیا جائے تو صحیح مشورہ دینا ضروری ہے


سوال

 میری سمدھن نے میرے د یور کی بیٹی اپنے لڑکے کے لیے پسند کی اور مجھ سے رائے ما نگی ،اب اگر میں اس کو سب سچ سچ بتا دوں تو پھر یہ ر شتہ ہو نا مشکل ہو جا ئے گا اور اگر نہ بتاؤں تو یہ سمد ھن کے ساتھ دھوکا ہو جائے گا،اب اس صورتِ حال میں میں بیچ میں پھنس گئی ہوں، ایک طرف سمد ھن ہیں اور ایک طرف دیور اور اس کی بیٹی،دونوں ہی رشتے نازک اور ا ہم ہیں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟

اگر لڑکی کے بارے میں سچ بولتی ہوں تو د یور کا ر شتہ خطرے میں پڑجاے گااور اگر سچ نہ بولوں تو سمد ھن کے ساتھ د ھو کا ہو جائے گا میں بیچ میں پھنس گئی ہوں خدا کے لیے  مجھے اس مشکل سے نکال دیں ۔

جواب

 اگر سائلہ اپنی سمدھن کو رائے اور مشورہ دینا چاہے تو صحیح اور حق بات بتائے ،اس لئے کہ حدیث مبارک کا مفہوم کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہوتا ہے ،یعنی اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ مشورہ کو امانت سمجھے  اور جو صحیح بات ہے وہ بتائے اور پھر اس مشورہ کا ذکر کسی اور سے نہ کرے۔

لیکن  اگر سائلہ یہ سمجھتی ہے کہ اس معاملہ میں مشورہ دینے پر سائلہ کے لئے بعد میں پریشانی ہوگی اور  اس کے دیور  اور اس کی بیٹی کے ساتھ رشتہ خراب ہوجائے گا تو پھر اپنی سمدھن سے کہہ دے کہ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے،میرا اس متعلق کچھ کہنا مناسب نہیں ہے ،لہذامیں اس بارے میں مشورہ نہیں دے سکتی ، بہتر یہ ہے کہ آپ کسی اور سے اس بارے میں مشورہ کرلیں ۔

وفي بذل المجهود في حل سنن أبي داود:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "المستشار مؤتمن"

(المستشار مؤتمن) أي الذي استشاره رجل فالمستشار أمين فيه، ولا يجوز له أن يفشي سره، ويلزم عليه أن يشيره بما هو أنفع للمستشير في دينه ودنياه، ولا يشير بما يضره."

 (باب في المشورة،13/ 518الناشر: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100537

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں