بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق کے لیے آخری دو رکعات میں فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کا حکم


سوال

 اگر چار  یا تین رکعات والی  نماز میں جماعت کے ساتھ دو رکعت رہ جائیں ،تو اس میں  سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

صورتِِ مسئولہ میں جب چار یا تین رکعات والی نماز میں مقتدی کی دو رکعت رہ جائیں، تو  امام کے  سلام پھیرنے کے بعد مقتدی اپنی فوت شدہ پہلی دو رکعت کی قضا کرے گا،جس میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا بھی واجب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ ۔۔۔(فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه۔۔۔ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد."

(كتاب الصلاة، باب لإمامة، 596/1، ط:سعید)

وفيه ايضا:

"(ولها واجبات)۔۔۔(وهي)۔۔۔(قراءة فاتحة الكتاب)۔۔۔(وضم) أقصر (سورة)۔۔۔(في الأوليين من الفرض)."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،  واجبات الصلاة، 458/459/1، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144604102607

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں