بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق کے تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد امام نے سلام پھیر دیا تو اقتدا کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر امام کے سلام کہنے کے بعد مقتدی نے تکبیرِ تحریمہ کہی، اور چونکہ اس مقتدی نے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی نیت سے نماز شروع کی تھی، تو کیا اب وہ نماز توڑ کر دوبارہ ادا کرے گا، یا اسی نیت کے ساتھ اس کی نماز ادا ہو جائے گی؟

اسی طرح اگر امام نے سلام پھیر دیا اور مسبوق نے تکبیرِ تحریمہ کہہ لی، اور ابھی وہ قعدہ میں بیٹھنے کے لیے جا رہا تھا، تو اگر وہ کھڑے ہونے کے قریب ہے تو کیا کرے؟ کیا وہ سیدھا کھڑا ہو کر نماز مکمل کر لے، یا تشہد  پڑھ کر نماز مکمل کرلے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مسبوق امام کے لفظ "السلام" کے میم کہنے سے پہلے تکبیر تحریمہ  کہہ کر نماز میں شامل ہو جائے تو اس کی شمولیت درست ہوگی ،دوبارہ تکبیر تحریمہ  کہنے کی ضرورت نہیں ۔لہٰذا اگر اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی امام سلام پھیر دے تو اسے بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ وہ کھڑا ہو کر اپنی نماز مکمل کرے گا۔اور اگر وہ بیٹھ چکا ہو اور اس کے بعد امام سلام پھیر دے تو اس صورت میں وہ تشہد مکمل کرکے پھر بقیہ نماز ادا کرے گا۔

البتہ اگر امام کے سلام کہنے کے بعد مسبوق نے تکبیرِ تحریمہ کہی ہو تو اس صورت میں جماعت میں اس کی شمولیت درست نہ ہوگی۔ لہٰذا وہ دوبارہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے گا، اور اگر دوبارہ تکبیرِ تحریمہ نہ کہے گا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

’’قال فی التجینس : الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدیٰ به قبل أن یقول علیکم لایصیر داخلاً فی صلاته؛ لأن هذا سلام؛ ألا ترى أنه لو أراد أن يسلم على أحد في صلاته ساهيًا فقال: السلام ثم علم فسكت تفسد صلاته."

کتاب الصلاۃ،باب صفة الصلاۃ،ج:1،ص:436،ط:سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

سوال:ایک مسبوق نے امام کو نماز میں ایسی حالت میں پایا کہ امام قعدہ اخیرہ میں بیٹھاہوا تھا،مسبوق نے اللہ اکبر تکبیر تحریمہ کہا اور امام نے سلام پھردیامسبوق قعدہ میں امام کے ساتھ بیٹھنے نہیں پایا تو مسبوق اسی تکبیرتحریمہ پر اپنی نماز پوری کرے یا سیدھا کھڑا ہو کر پھر تکبیر تحریمہ کہے۔

جواب:جب مسبوق مقتدی نےامام کے سلام  سے پہلے امام کی نماز میں شریک ہونے کی نیت سے تکبیرتحریمہ ادا کرلی تو وہ امام کی نماز میں داخل  ہوگیا،صحت اقتداء کےلیے تحریمہ بنیت اقتداء کہنا کافی ہے،اقتداء کی صحت صرف نیت کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے سے ہوجاتی ہے،اگر مقتدی کے بیٹھنے سے پہلے امام نے سلام پھیردیا تو مقتدی  اسی تحریمہ سے مسبوق کی طرح نماز ادا  کرلے۔

(کتاب الصلا ۃ،ج:3،ص:438،ط:دارالاشاعت)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

"امام کے سلام  پھیرنے سے  پہلے تکبیر تحریمہ کہہ دی ہے تو جماعت میں شامل ہونے والا شمار ہوگا، تکبیرِتحریمہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔" 

(کتاب الصلاۃ،ج:5،ص:153،ط:دارالاشاعت)

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

جب مسبوق نے امام کے سلام  سے پہلے اقتداء کی نیت سے تکبیر تحریمہ کہہ دی تو وہ حرمت صلاۃ میں داخل ہوگیا اور اقتداء صحیح ہوگئی ،صحت اقتداء کےلیے اتنی شرکت کافی ہے،قعدہ میں شرکت شرط نہیں ۔البتہ اگر لفظ سلام کہنےکےبعدتکبیرتحریمہ کہی ہوتو اقتداء صحیح  نہ ہوگی۔

(کتاب الصلاۃ،ج:5،ص:155،ط:دارالاشاعت)

احسن الفتاوی میں ہے:

جواب:مقتدی کی تکبیرتحریمہ ختم ہونے سےقبل اگرامام نےایک طرف السلام کہہ لیااگر چہ ابھی علیکم نہ کہاتواقتداء صحیح نہ ہوئی ،تکبیرتحریمہ دوبارہ کہہ کرنماز پڑھےگا،اگردوبارہ تکبیرتحریمہ نہ کہے گا تو نمازنہ ہوگی ۔

(کتاب  الصلاۃج:3،ص:370،ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102143

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں