
ہمارے ہر مسجد میں عیدین کی نماز ہوتی ہے، اور کثیر تعداد مسجد میں عیدین کی نماز ادا کرتی ہے، جبکہ عیدگاہ بھی موجود ہے، اور وہاں عیدین کی نماز بھی ہوتی ہے، جب بعض مرتبہ مسجد میں عیدین کی نماز سے روکا گیا، تو یہ کہہ کر بات کو ٹال دیا گیا کہ جو بوڑھے بزرگ ہے، وہ عیدگاہ نہیں جاسکتے، اور عید کا موقع سال میں دو مرتبہ آتا ہے ،سب کی خواہش ہوتی ہے کہ عید کی نماز ادا کریں، تو وہ کیسے عیدین کی نماز ادا کریں گے، اس لئے ان بوڑھوں اور بزرگ حضرات کے خاطر عیدین کی نماز مسجد میں بھی رکھی جاتی ہے، اور پھر صحت مند تندرست جوان حضرات بھی مسجد میں عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے ان تمام صورتوں باوجود اور ان وجوہات کی بنا پر مسجد میں عیدین کی نماز اہتمام رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ان صورتوں کے باوجود مسجد میں عیدین کی نماز کو موقوف کرنا درست ہے ؟
واضح رہے کہ عید کی نماز دین کے شعائر میں سے بنیادی شعار ہے، عید کی نماز سے مقصود مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہے،اسی وجہ سے کھلے عام مقامات پر اس کی ادائیگی کی ترغیب ہے،تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ایک جماعت میں شریک ہوسکیں ، اور خوب شان و قوت کا اظہار ہو، اس لیے عید گاہ میں نمازِ عید ادا کرنا زیادہ افضل و بہتر ہے،البتہ کثرتِ آبادی ، رش اور عیدگاہوں میں گنجائش نہ ہونے یا دور ہونے یا حالات کی وجہ سے مساجد میں ادا کرنابھی درست اور جائز ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
"حدثنا سعيد بن أبي مريم، قال: حدثنا محمد بن جعفر، قال: أخبرني زيد بن أسلم، عن عياض بن عبد الله بن أبي سرح ، عن أبي سعيد الخدري، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى، فأول شيء يبدأ به الصلاة، ثم ينصرف، فيقوم مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم، ويوصيهم، ويأمرهم، فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به، ثم ينصرف."
(باب الخروج إلى المصلى بغير منبر، ج: 2، صفحہ: 17، رقم الحدیث: 956، ط: دار طوق النجاة)
زاد المعاد ميں هے:
" كان صلى الله عليه وسلم يصلي العيدين في المصلى، وهو المصلى الذي على باب المدينة الشرقي، وهو المصلى الذي يوضع فيه محمل الحاج، ولم يصل العيد بمسجده إلا مرة واحدة أصابهم مطر فصلى بهم العيد في المسجد ."
(فصل في هديه صلى الله عليه وسلم في العيدين، جلد:1، صفحه: 425، طبع: مؤسسة الرسالة)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:
"وفي الخلاصة والخانية: السنة أن يخرج الإمام إلى الجبانة، ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على أن صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق، وإن لم يستخلف فله ذلك. اهـ."
(کتاب الصلاۃ، باب العیدین، ج: 2، صفحہ: 169، ط: ایچ، ایم، سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع، على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح، هكذا في المضمرات".
(الباب السابع عشر في صلاة العيدين، ج: 1، 150، ط: دارالفکر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وفي المغرب الجبانة المصلى العام في الصحراء، وعلى هذا فيجوز أن يكون منصوبا عطفا على يطعم؛ لأن التوجه إلى المصلى مندوب كما أفاده في التجنيس، وإن كانت صلاة العيد واجبة حتى لو صلى العيد في الجامع، ولم يتوجه إلى المصلى فقد ترك السنة، وإنما أتى بثم لإفادة أن التوجه متراخ عن جميع الأفعال السابقة."
(الخروج إلى الجبانة يوم العيد، ج: 2، صفحه: 171، ط: دار الكتاب الإسلامي)
امداد الاحکام میں ہے:
"سوال: شرعاً صحرا کس کو کہتے ہیں؟ جہاں عیدین کی نمازیں پڑھنا سنت موکدہ ہے؟
الجواب: جہاں مکانات نہ بنے ہوئے ہوں، مکانات آبادی سے باہرجو میدان ہو وہ عیدگاہ کامحل مسنون ہے۔"
(کتاب الصلاۃ، جلد:1، حصہ دوم، صفحہ: 771، طبع: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100272
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن