
ہمارے علاقے میں 23 رمضان المبارک کو شیرینی وغیرہ مسجدوں تقسیم کی جاتی ہیں اور ایک رواج بن چکا ہے، اس کی کوئی شرعی حیثیت ہے یا نہیں؟
ختم قرآن یا 23 رمضان کے موقع پر لازم اور رواج سمجھ کر شیرینی بانٹنا بدعت ہے، اگر اس کو لازم نہ سمجھا جائے اور مسجد کے فنڈ اور آمدنی کے علاوہ چند لوگ مل کر ختم قرآن کی خوشی میں کوئی مٹھائی وغیرہ بانٹیں تو ایسی صورت میں بانٹنا جائز ہوگا۔
امداد الفتاوی میں ہے:
"الم تر کیف اور تمام قرآن کا حکم ان امور میں یکساں ہے،یعنی فضول روشنی کرنا اسراف ہے اور بدعت ہے اور شیرینی کو لازم سمجھ کر بانٹنا یہ بھی بدعت ہے۔"
(کتاب البدعات، ج:5، ص:295، ط:مکتبہ دار العلوم)
امداد الفتاوی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
"یہ شیرینی مصارف مسجد میں داخل نہیں لہذا وقف مسجد سے اس میں صرف کرنا جائز نہیں۔"
(احکام المسجد، ج:2، ص:682، ط:مکتبہ دار العلوم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101982
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن