بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافت سفر کی ابتداء کہاں سے ہوگی؟


سوال

 سفر کے احکام آبادی سے نکلنے (مفارقتِ عمران) کے بعد شروع ہوتے ہیں، لیکن سفر کی مسافت کا اندازہ کہاں سے لگایا جاتا ہے؟ یعنی اگر ہم کہیں کہ سفر کی مسافت نوے کلومیٹر ہے، تو یہ نوّے کلومیٹر کہاں سے شمار ہوگا؟آیا گھر سے یا آبادی سے نکلنے کے بعد؟ براہِ کرم اس کی وضاحت مع دلیل (نص) فرمائیں!

جواب

مسافتِ سفر  کی ابتدا کا اعتبار  اپنے علاقے (شہر/گاؤں) کی حدود سے ہوگا، اور  مسافت کی انتہا کا اعتبار جس شہر میں جانا ہے، اس کی ابتدائی حدود تک ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة."

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص: 121، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة حين تخلف عمران المصر؛ لأنه مادام في المصر فهو ناوي السفر لا مسافر، فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرًا لاقتران النية بعمل السفر، والأصل فيه حديث علي - رضي الله تعالى عنه - حين خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه فقال: لو جاوزنا ذلك الخص صلينا ركعتين."

(باب صلاة المسافر، ج: 1، صفحہ: 236، ط: دار المعرفة ) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں