بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسئلۂ عصمتِ انبیاء پر شبہات اور ان کے جوابات


سوال

انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے سے کیا مراد ہے؟

کیا یہی عقیدہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ یا صحیح احادیث میں؟

انبیاء کرام کی متعدد غلطیوں کا ذکر قرآن میں صاف صاف بیان ہوا ہے، اسی طرح انبیاء کی توبہ اور اس کی قبولیت کا ذکر بھی ملتا ہے۔

قرآن کریم میں انبیائے کرام کی کچھ بڑی غلطیاں بھی بیان ہوئی ہیں۔ مثلا قتل، نافرمانی،و غیره۔

ان سب کی روشنی میں ایسا گمان ہوتا ہے کہ انبیاء بھی شاید گناہ یا غلطی سے پاک نہیں تھے۔ علمائے کرام گناہ کے لفظ کے استعمال سے کتراتے محسوس ہوتے ہیں اور شاید اس لیے کہ اس لفظ کے استعمال سے انبیاء کی ہدایت پہنچانے کی حیثیت پر سوال نہ اٹھ جائیں۔

بائبل میں بھی انبیاء کی لغزشوں کا ذکر ملتا ہے اور عیسائیوں سے گفتگو میں پتا چلتا ہے کہ وہ انبیاء کو معصوم نہیں مانتے اور ماسوائے خدا (جو انکے نزدیک فادر۔ روح مقدس اور عیسی علیہ السلام ہیں ۔ معاذ اللہ) کے سب مخلوق کے گناہ کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کو بنیادی عقیدہ مانتے ہیں اور "اصلی گناہ" سے چھٹکارے کے لئے سیدنا عیسی علیہ السلام کی متعلق غلو شدہ اور مشرکانہ عقائد رکھتے ہیں۔ کچھ عیسائیوں سے گفتگو ہوئی جو اسلام سے آگاہی بھی رکھتے ہیں ، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انبیاء کی معصومیت کا نظریہ اور عقیدہ مسلم علماء نے بعد میں داخل کیا ہے۔برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔ئئ

جواب

 معصوم وہ ہستی کہلاتی ہے جو اپنے تمام اعتقادات، نیات و ارادات، اخلاق و عادات، عبادات و معاملات اور اقوال وافعال میں نفس اور شیطان کی مداخلت سے محفوظ ہو اور حفاظتِ غیبی اس کی محافظ اور نگہبان ہو کہ ان سے کوئی ایسی چیز سرزد نہ ہو جائے کہ اُن کے دامن عصمت کو آلودہ کر سکے ۔

 عصمت لازمۂ نبوت ہے، جس طرح یہ تصور کبھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی لمحہ نبوت نبی سے الگ ہوجائے، اسی طرح اس بات کا وہم وگمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ عصمت‘ نبوت اور نبی سے ایک آن کے لیے بھی جدا ہوسکتی ہے۔

کیوں کہ نبوت ورسالت وہ اعلیٰ ترین منصب ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے مخصوص بندوں کو عطا کیا جاتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ ایک ایسی برگزیدہ اور معصوم شخصیت کا انتخاب فرماتا ہے جو اپنے ظاہر وباطن، قلب وقالب، روح وجسد ہر اعتبار سے عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے، وہ ایسا پاک طینت اور سعید الفطرت پیدا کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات رضاء ومشیت الٰہی کے تابع ہوتی ہیں، ردائے عصمت اس کے زیب تن ہوتی ہے، حق تعالیٰ کی قدرت کا ملہ ہر دم اس کی نگرانی کرتی ہے،اس کی ہر حرکت وسکون پر حفاظتِ خداوندی کا پہرہ بٹھادیا جاتا ہے اور وہ نفس وشیطان کے تسلط واستیلاء سے بالاتر ہوتاہے۔ اور یہی دو چیزیں ( فطرت کی پاکیزگی، اور حفاظتِ خداوندی) مدارِ عصمت ہے۔

عقیدۂ عصمتِ انبیاء علیہم السلام نہ صرف امتِ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، بلکہ دلائلِ نقلیہ (قرآن و حدیث) اور دلائلِ عقلیہ دونوں سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ یہ کوئی بعد کا ایجاد کردہ نظریہ نہیں، بلکہ آغازِ اسلام ہی سے نصوصِ قطعیہ سے ثابت شدہ عقیدہ ہے۔

ذیل میں اس عقیدے پر چند اہم دلائلِ نقلیہ و عقلیہ پیش کیے جا رہے ہیں:

آیاتِ کریمہ:-

1-{مَنْ يُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظاً (80)}  (سورۃ النساء)

اس آیت میں رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا ہے، اور ظاہر ہے کہ کسی غیر معصوم کی اطاعت کو عین اطاعتِ خداوندی نہیں کہا جا سکتا۔ اطاعتِ رسول اور اطاعتِ الٰہی میں یہ اتحاد اور عینیت اسی وقت ممکن ہے جب رسول ہر طرح کی معصیت اور خطا سے مکمل طور پر پاک ہو۔

2-{وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ(132)}  (سورۃ آل عمران)

اس آیت میں رسول کی علی الاطلاق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور اس پر رحمت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی غیر معصوم شخص کی اطاعت علی الاطلاق کسی صورت میں بھی حکم نہیں دی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ چوں کہ خلفاء و امراء معصوم نہیں ہوتے، اس لیے ان کی اطاعت کا حکم علی الاطلاق نہیں دیا گیا، بلکہ ان کی اطاعت کا یہ معیار مقرر کیا گیا ہے کہ امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے جب تک وہ معصیت کا حکم نہ دے، اور جب وہ معصیت کا حکم دے تو پھر اس کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

3-{قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ(124)}  (سورۃ البقرۃ)

اس آیت میں عہد سے مراد نبوت و رسالت ہے ، لہذا یہ آیت صریح ہے کہ نبی اور رسول گناہ گار اور ظالم نہیں ہو سکتا۔(معارف القرآن (لمولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)، ج:1، ص:151، ط:مکتبۃ العارف)

4-{إِلاَّ مَنْ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَداً (27)}  (سورۃ الجن)

{قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لأغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ(82) إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِينَ (83)   (سورة ص) 

پہلی آیت میں "من" بیانیہ ہے اور "رَسول" کا لفظ نکرہ لایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر رسول کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور برگزیدہ بندہ ہو، یعنی تمام اخلاق، عادات، افعال، ملکات، احوال اور مقامات میں ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا منتخب اور محبوب بندہ ہو، اور بلا شرکتِ غیرے، خالصتاً اللہ کا بندہ ہو۔

اور دوسری آیت میں شیطان نے تمام انسانوں کو گمراہ کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن "المخلَصین" کو مستثنیٰ قرار دیا، اورمن کل الوجوہ عباد مخصین کا مصداق انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہی ہیں، جیسا کہ حضرت ابراہیم، اسحاق، یعقوب، موسیٰ اور یوسف علیہم السلام کی شان میں فرمایا گیا ہے۔

{وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ (45)إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّار(46)}  (سورۃ ص)

{وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّاً(51)}  (سورۃ مریم)

{كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ(24)} (سورۃ یوسف)

اور ہر پہلو سے پاک و صاف، اللہ کا پسندیدہ، اور بلا شرکتِ غیرے خالص اللہ کا بندہ صرف وہی ہو سکتا ہے، جس کا ظاہر و باطن، نفس اور شیطان کی بندگی اور اطاعت سے بالکل پاک ہو۔ اور اسی مادّۂ معصیت سے مکمل طہارت و نزاہت کا نام عصمت ہے۔

5-{كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ(24)}   (سورۃ یوسف)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا باطن مادۂ معصیت (یعنی نفس اور شیطان) سے پاک ہوتا ہے، اور جب کبھی بیرونی اثر سے کوئی لغزش کی صورت پیدا ہو جائے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ فوراً اس بیرونی غبار کو چہرۂ عصمت سے صاف فرما دیتا ہے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاء} اسی طرح ہم نے ان سے برائی اور بے حیائی کو دور کر دیا

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے یوسف کو سوء اور فحشاء سے دور کیا، بلکہ فرمایا کہ ہم نے سوء اور فحشاء کو ان سے دور کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ سوء اور فحشاء حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف آنا چاہتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو یوسف علیہ السلام کی طرف آنے سے روک دیا، جب کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا ان کی طرف کوئی میلان نہ تھا۔معاذ اللہ! اگر حضرت یوسف کا میلان سوء و فحشاء کی طرف ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے:"كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَهُ عَنِ السُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ"۔

احادیثِ مبارکہ:-

1-مسلم شریف کی درج ذیل روایت عصمت انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام پر صریح ہے:

"عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ما منکم من أحد إلا وقد وکل بہ قرینہ من الجن وقرینہ من الملائکۃ، قالوا وإیاک یا رسول اللّٰہ قال: وإیاک ولکن اللّٰہ أعانني علیہ فأسلم فلا یأمرني إلا بخیر".

(کتاب صفة القیامة، باب تسویس الشیطان الخ، رقم الحدیث: 2814، ج:8، ص:139، ط:دار الطباعة العامرة)

”عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس ایک شیطان اور ایک فرشتہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے، صحابہ نے عرض کیا: آپ کے ساتھ بھی یا رسول اللہ! فرمایا: ہاں، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے میری مدد فرمائی، وہ میرے تابع ہو گیا، وہ مجھے بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے“۔

2-مسلم شریف کی دوسری روایت ہے:

"‌إذا ‌حدثتكم ‌عن ‌الله ‌شيئا ‌فخذوا ‌به فإني لن أكذب على الله عز وجل ."

(کتاب الفضائل، رقم الحدیث:2361، ج:7، ص:95، ط:دار الطباعة العامرة)

”جب میں تمہیں اللہ کے بارے میں کوئی بات بتاؤں تو اسے قبول کر لیا کرو، کیوں کہ میں اللہ عز وجل پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا“۔

3-سنن ابی داؤد کی روایت ہے:

"عن عبد الله بن عمرو قال: كنت أكتب كل شيء أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم أريد حفظه، فنهتني قريش، وقالوا: أتكتب كل شيء تسمعه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم بشر يتكلم في الغضب والرضا، فأمسكت عن الكتاب، فذكرت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأومأ بإصبعه إلى فيه، فقال: اكتب فوالذي نفسي بيده ‌ما ‌يخرج ‌منه ‌إلا ‌حق."

(کتاب العلم، ‌‌باب كتابة العلم، رقم الحدیث:3646، ج:3، ص:356، ط:المطبعة الأنصارية)

”عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا تھا، وہ سب لکھ لیتا تھا تاکہ اسے محفوظ رکھ سکوں۔قریش نے مجھے روکا اور کہا: کیا تم ہر بات لکھ لیتے ہو جو رسول اللہ ﷺ سے سنتے ہو؟ حالاں کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایک بشر ہیں، وہ (بعض اوقات) غصے اور خوشی (دونوں حالتوں) میں بات کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا روک دیا، پھر میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی،آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: لکھو! قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس (منہ) سے صرف حق ہی نکلتا ہے“۔

4-صحیح ابن حبان کی روایت ہے:

"علي بن أبي طالب رضي الله عنه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "‌ما ‌هممت ‌بقبيح مما يهم به أهل الجاهلية إلا مرتين من الدهر، كلتاهما عصمني الله منهما".

(‌‌ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان على دين قومه قبل أن أوحي إليه، رقم الحدیث:2976، ج:4، ص:12، ط:دار ابن حزم)

”حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:جاہلیت کے زمانے میں جن برے کاموں کا لوگ ارادہ کرتے تھے، میں نے کبھی ان کا ارادہ نہیں کیا، سوائے دو مواقع کے، اور ان دونوں موقعوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے محفوظ رکھا“۔

دلائلِ عقلیہ:-

1-انبیاء علیہم السلام اللہ کے نمائندے اور انسانوں کے لیے ہدایت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ اگر وہ خود گناہ یا خلافِ شریعت کام کریں، یا غلطی کے مرتکب ہوں، تو لوگوں کا ان پر اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔جب اعتماد ختم ہو گا تو ان کی تعلیمات مؤثر نہیں رہیں گی، اور بعثتِ انبیاء کا اصل مقصد یعنی ہدایتِ خلق فوت ہو جائے گا، لہٰذا عقل کا تقاضا اور اللہ کی حکمت یہی ہے کہ انبیاء ہر گناہ، خطا اور نافرمانی سے معصوم ہوں، تاکہ وہ لوگوں کے لیے کامل اسوہ اور قابلِ اعتماد رہیں۔

2- عصمت ملائکہ کا ایک لازمی وصف ہے، اور انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ملائکہ سے افضل ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی غیر معصوم معصوم سے افضل نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا یہ نتیجہ نکلا کہ انبیاء کی عصمت پر ایمان رکھنا، ملائکہ کی عصمت کے عقیدے سے بھی زیادہ مؤکد اور اہم ہے۔

چناں چہ امام ابو منصور ماتُریدیؒ فرماتے ہیں:نظرو فکر کا تقاضا یہی ہے کہ انبیاءِ کرام کے بارے میں عصمت کا عقیدہ، ملائکہ کی عصمت کے عقیدے سے زیادہ مؤکد اور لازم ہو، اس لیے کہ لوگ انبیاء کی پیروی اور اطاعت پر مامور ہیں، جب کہ فرشتوں کی اطاعت کا حکم نہیں دیا گیا۔

جہاں تک قرآن کریم میں بقولِ سائل انبیاء کرام کی غلطیوں کا ذکر ہے، سو جواب سے پہلے بطورِ تمہید چند باتوں کا جاننا ضروری ہے:

الف۔ محکم اور ظاہر میں تعارض کے وقت محکم کو ترجیح ہوتی ہے:

اصولِ فقہ کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ محکم اور ظاہر میں اگر تعارض ہو تو ظاہر میں تاویل کی جائے گی، یعنی اس کو ظاہر سے منصرف کر کے محکم کی طرف راجع کریں گے۔

ب۔ معصیت کے معنی:

معصیت مطلق مخالفتِ حکم کا نام نہیں، بلکہ معصیت اُس مخالفت کو کہتے ہیں جو عمداً اور قصداً ہو، بوجہ نسیان اور غلطی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موقعِ عذر میں یوں کہتے ہیں کہ: ”میں بھول گیا تھا“ یا ”میں سمجھا نہ تھا“۔ اگر باوجود نسیان اور غلط فہمی کے بھی کسی مخالفت کو معصیت، گناہ اور جرم کہا جائے، تو پھر موقعِ عذر میں یہ کہنا کہ "میں بھول گیا تھا" سراسر لغو ہوگا۔

ج۔ خطا (ذلت و لغزش) اور نسیان عصمت کے منافی نہیں:

معصیت کی تعریف سے معلوم ہوا کہ خطا اور نسیان عصمت کے منافی نہیں، اور یہی مفہوم سورۂ احزاب، آیت نمبر 5 میں بیان ہوا ہے:{وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ}(تم پر بھول چوک میں کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن گناہ اس میں ہے جس کا تمہارے دل پختہ ارادہ کرلیں)

اس آیت کے مطابق جب خطا اور نسیان میں کوئی گناہ نہیں ہے، تو پھر وہ عصمت کے منافی نہیں ہوسکتا۔

د۔ کبھی کبھار زلت و لغزش پر بھی معصیت کا اطلاق کیا جاتا ہے، "حسناتُ الأبرار سیئاتُ المقربین" کے قاعدے کے بنیاد پر، یعنی وہ گناہ نہیں ہوتا، لیکن مخاطب کی رفعتِ شان کی وجہ سے اسے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
مثلاً آپ کا کوئی قریبی دوست ہے، اور وہ آپ کو صرف سلام کرکے گزر جائے، مصافحہ اور پوچھ گچھ نہ کرے تو اس کا یہ رویہ آپ کے خیال میں گناہ تصور ہوگا، حالاں کہ اس نے کوئی گناہ کا عمل نہیں کیا۔

ان مقدمات کے بعد سمجھیے کہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے دلائل محکم ہیں، اور اس کے خلاف کے دلائل اکثر تو ظاہر بھی نہیں (مثلاً یونس علیہ السلام کے بارے میں قرآن کریم میں ہے:"إنی کنت من الظالمین" اور ظلم کے معنی لغت میں "وضعُ الشیءِ فی غیر محله" ہیں، یعنی ہر بے موقع کام، گو شرعاً اس میں کراہت یا حرمت بھی نہ ہو)۔ لیکن اگر ان کا ظاہر ہونا بھی سب میں مان لیا جائے، تب بھی انبیاء کے افعال پر مجازاً اور حسناتُ الأبرار سیئاتُ المقربین اور انبیاء کی رفعتِ شان کی بنیاد پر اس پر گناہ کا اطلاق کیا گیا، حقیقت میں گناہ نہیں تھا، کیوں کہ گناہ تو وہ ہے جو ارادۃً و قصداً کیا جائے، جب کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے جو افعال قرآن کریم میں مذکور ہیں، وہ نسیان، خطا اور غلط فہمی کی بنیاد پر صادر ہوئے تھے۔

چناں چہ حضرت آدم علیہ السلام کا درختِ ممنوعہ کھانے کے متعلق خود اللہ تعالی دوسری جگہ فرما رہے ہیں{فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً(115)} (سورۃ طه)آدم علیہ السلام بھول گئے، حق تعالی شانہ کی ممانعت اور شیطان کی عداوت کا استحضار اس کو نہ رہا، معصیت اور نافرمانی کا بالکل ارادہ نہ تھا۔

اسی طرح موسی علیہ السلام کاقبطی کو مارنا خطا اور غیر ارادی طور پر تھا۔حضرت موسی علیہ السلام کو اندازہ نہیں تھا کہ صرف ایک گھونسے  سے ہی یہ شخص مرجائے گا ،آپ کی نیت  تو محض اس کو ظلم سے روکنے کی، اور تادیبی سزا کی  تھی ، جان سے مارنے کا ارادہ  نہیں تھا ، مگر وہ شخص آپ کے گھونسے  کی تاب نہ لاسکا اور مرگیا، موسی علیہ السلام نے اس کو بھی اپنے منصبِ نبوت و رسالت اور پیغمبر انہ عظمتِ  شان کے لحاظ سے اپنا گنا ہ قرار دے کر اللہ تعالی سے مغفرت طلب کی ،اللہ تعالی نے معاف فرمادیا ۔

حضرت یونس علیہ السلام کا حکمِ خداوندی سے پہلے بستی سے نکلنا اجتہادی لغزش کی بنیاد پر تھا، کیوں کہ انہوں نے قوم کو تین دن میں عذاب آنے کی وعید سنائی، جب بستی والوں پر عذاب کے آثار شروع ہوئے تو وہ سب کے سب ایمان لائے، اور ان کی توبہ و انابت اور ایمان لانے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام کو یہ تو علم ہوا کہ تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی قوم پر عذاب نازل نہیں ہوا، مگر ان کو اس کا سبب معلوم نہ ہو سکا۔ جس سے ظاہر ہے کہ ان کو پریشانی لاحق ہوگئی ہوگی، اور یہ سمجھے ہوں گے کہ اگر وہ دوبارہ بستی میں واپس جائیں گے تو قوم ان کی تکذیب کرے گی۔ ایسی صورتِ حال میں حکمِ خداوندی کا انتظار کیے بغیر اجتہاد کر کے نکل گئے اور اجتہاد میں لغزش ہوئی۔ لہٰذا یہ حقیقت میں کوئی گناہ نہیں ہے، اجتہادی خطا ہے، لیکن حسناتُ الأبرار سیئاتُ المقربین اور انبیاء کی رفعتِ شان کی بنیاد پر وہ اس کی وجہ سے بھی کئی دن مچھلی کے پیٹ میں رہیں۔

وفي التفسير المظہري:

"وقالَ إلخ الجملة مستأنفة هذا اى القتل مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ انما قال ذلك لانه لم يكن مأمورا حينئذ بقتل الكفار او لانه كان مأمونا فيهم فلم يكن له اغتيالهم وهذا لم يكن مناف لعصمته لكونه خطأ وانما عدّ ذلك الأمر من عمل الشيطان وسماه ظلما واستغفر عنه على عادة المقربين فى استعظام محقرات صدرت منهم."

(سورة القصص، الجزء:7، الصفحة:152،  الطبعة:مكتبة الرشدية)

وفي التفسیر القرطبي:

": كان ذلك منه بعد دعائه من أرسل إليهم إلى ما أمره الله بدعائهم إليه، وتبليغه إياهم رسالة ربه، ولكنه وعدهم نزول ما كان حذرهم من بأس الله في وقت وقته لهم ففارقهم إذ لم يتوبوا ولم يراجعوا طاعة الله، فلما أظل القوم العذاب وغشيهم- كما قال الله تعالى في تنزيله- توبوا إلى الله، فرفع الله العذاب عنهم، وبلغ يونس سلامتهم وارتفاع العذاب الذي كان وعدهموه فغضب من ذلك وقال: وعدتهم وعدا فكذب وعدي. فذهب مغاضبا ربه وكره الرجوع إليهم، وقد جربوا عليه الكذب، روا سعيد بن جبير عن ابن عباس. وقد مضى هذا في" الأنبياء" وهو الصحيح على ما يأتي عند قول تعالى:" وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون" [الصافات: 147]."

(‌‌سورة الصافات (37): الآيات 139 الى 144، الجزء:15، الصفحة:122،  الطبعة:دار الكتب المصرية)

وفي التفسیر القرطبي:

"وقال جمهور من الفقهاء من أصحاب مالك وأبي حنيفة والشافعي: إنهم معصومون من الصغائر كلها كعصمتهم من الكبائر أجمعها، لأنا أمرنا باتباعهم في أفعالهم وآثارهم وسيرهم أمرا مطلقا من غير التزام قرينة، فلو جوزنا عليهم الصغائر لم يمكن الاقتداء بهم، إذ ليس كل فعل من أفعالهم يتميز مقصده من القربة والإباحة أو الحظر أو المعصية، ولا يصح أن يؤمر المرء بامتثال أمر لعله معصية".

 (سورة البقرة ، آية 35، الجزء:1، الصفحة:308،  الطبعة:دار الكتب المصرية)

وفي التفسیر البیضاوي:

"والجواب من وجوه.

الأول: أنه لم يكن نبياً حينئذ، والمدعي مطالب بالبيان.

والثاني: أن النهي للتنزيه، وإنما سمي ظالماً وخاسراً لأنه ظلم نفسه وخسر حظه بترك الأولى له. وأما إسناد الغي والعصيان إليه، فسيأتي الجواب عنه في موضعه إن شاء الله تعالى. وإنما أمر بالتوبة تلافياً لما فات عنه، وجرى عليه ما جرى معاتبة له على ترك الأولى، ووفاء بما قاله للملائكة قبل خلقه.

والثالث: أنه فعله ناسياً لقوله سبحانه وتعالى: فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً ولكنه عوتب بترك التحفظ عن أسباب النسيان، ولعله وإن حط عن الأمة لم يحط عن الأنبياء لعظم قدرهم كماقال عليه الصلاة والسلام «أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الأولياء، ثم الأمثل فالأمثل». أو أدى فعله إلى ما جرى عليه على طريق السببية المقدرة دون المؤاخذة على تناوله، كتناول السم على الجاهل بشأنه. لا يقال إنه باطل لقوله تعالى: مَا نَهاكُما رَبُّكُما، وقاسَمَهُما الآيتين، لأنه ليس فيهما ما يدل على أن تناوله حين ما قال له إبليس، فلعل مقاله أورث فيه ميلاً طبيعياً، ثم إنه كف نفسه عنه مراعاة لحكم الله تعالى إلى أن نسي ذلك، وزال المانع فحمله الطبع عليه.

والرابع: أنه عليه السلام أقدم عليه بسبب اجتهاد أخطأ فيه، فإنه ظن أن النهي للتنزيه، أو الإشارة إلى عين تلك الشجرة فتتناول من غيرها من نوعها وكان المراد بها الإشارة إلى النوع، كماروي أنه عليه الصلاة والسلام «أخذ حريراً وذهباً بيده وقال: «هذان حرام على ذكور أمتي حل لإناثها». وإنما جرى عليه ما جرى تعظيماً لشأن الخطيئة ليجتنبها أولاده."

(‌‌سورة البقرة، آية: 39، الجزء:1، الصفحة:74،  الطبعة:دار إحیاء التراث العربي)

وفي فیض الباري:

"وقد علمت سابقا أن الأشاعرة جوزوا الصغائر قبل البعثة، ونفاها الماتريدية ‌وقالوا ‌بالعصمة قبلها وبعدها."

(کتاب الصلاۃ، باب كراهية التعرى فى الصلاة وغيرها، الجزء:2، الصفحة:16،  الطبعة:دار الكتب العلمية)

وفي الفقه الأکبر:

"والأنبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزهون عن الصغائر والكبائر والكفر والقبائح وقد كانت منهم زلات وخطايا".

(‌‌القول في عصمة الأنبياء، الصفحة:37، الطبعة:مکتبة الفرقان)

وفي الیواقیت ولجواھر(للإمام الشعرانیؒ):

"قال أئمة الأصول: الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کلھم معصومون، لا یصدر عنھم ذنب، ولو صغیرۃ سھواً".

(في بیان العصمة، الجزء:2، الصفحة:2، الطابع: عباس بن عبدالسلام بن شقرون)

وفي النبراس:

"المذكور في كلام الشارح هو مذهب عامة المتكلمين وخالفهم جمهور جمع من العلماء، فذهبوا إلى العصمة عن الصغائر والكبائر قبل الوحي وبعده وهو مختار أبي المنتھى شارح الفقه الأكبر والشيخ عبد الحق المحدث الدهلوى .... وقال الإمام الشيخ ابو منصور الماتريدي الأنبياء أحق بالعصمة من الملائكة، لأن الأمم مأمورون بالاتباع للأنبياء لا الملائكة".

(الأنبیاء معصومون، الجزء:457، الطبعة:البشریٰ)

 مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ معارف القرآن میں سورہ بقرہ آیت 35 کے ذیل میں لکھتے ہیں :

”مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام :

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو کسی خاص درخت کے کھانے سے منع فرمایا گیا تھا اور اس پر بھی متنبہ کردیا گیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گناہ میں مبتلا کردے، اس کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام نے اس درخت سے کھالیا جو بظاہر گناہ ہے، حال آں کہ انبیاء علیہم السلام گناہ سے معصوم ہوتے ہیں، تحقیق یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت تمام گناہوں سے عقلًا اور نقلًا ثابت ہے،  ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں، اور بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ صغیرہ گناہ ان سے بھی سرزد ہوسکتے ہیں، جمہور اُمت کے نزدیک صحیح نہیں۔(قرطبی)۔

وجہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو لوگوں کا مقتدا بنا کر بھیجا جاتا ہے، اگر ان میں سے بھی کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ صادر ہوسکے تو انبیاء کے اقول وافعال سے امن اٹھ جائے گا اور وہ قابلِ اعتماد نہیں رہیں گے جب انبیاء علیہم السلام ہی پر اعتماد واطمینان نہ رہے تو دین کا کہاں ٹھکانہ ہے۔

البتہ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات میں متعدد انبیاء علیہم السلام کے متعلق ایسے واقعات مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب بھی ہوا، حضرت آدم علیہ السلام کا یہ قصہ بھی اسی میں داخل ہے۔

ایسے واقعات کا حاصل باتفاقِ امت یہ ہے کہ کسی غلط فہمی یا خطا ونسیان کی وجہ سے ان کا صدور ہوجاتا،کوئی پیغمبر جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے خلاف عمل نہیں کرتا،  غلطی اجتہادی ہوتی ہے یا خطا و نسیان کے سبب  قابل معافی ہوتی ہے،  جس کو اصطلاحِ  شرع میں گناہ نہیں کہا جاسکتا اور  یہ سہو  و نسیان  کی غلطی ان سے ایسے کاموں میں نہیں ہوسکتی جن کا تعلق تبلیغ وتعلیم اور تشریع سے ہو، بلکہ ان سے ذاتی افعال اور اعمال میں ایسا سہو ونسیان ہوسکتا ہے ۔(تفسیر بحرا لمحیط ) 

 

مگر چوں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کا مقام نہایت بلند ہے اور بڑوں سے چھوٹی سی غلطی بھی ہوجائے تو بہت بڑی غلطی سجھی جاتی ہے؛ اس لیے قرآنِ حکیم میں ایسے واقعات کو معصیت اور گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس پر عتاب بھی کیا گیا ہے اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے وہ گناہ ہی نہیں ۔“

(ج:1، ص:195، ط:مکتبہ معارف القرآن)

معارف(لمولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ ) میں ہے:

”عصمت کے معنی یہ ہیں کہ ظاہر و باطن نفس اور شیطان کی مداخلت سے پاک اور منزہ ہوں اور نفس اور شیطان یہی دو چیزیں مادہ معصیت ہیں اور مادہ معصیت سے پاک ہونے کا نام عصمت ہے، اور معصوم وہ شخص ہے جو اپنے تمام اعتقادات اور نیات اور ارادات اور مقامات اور اخلاق و عادات اور عبادات و معاملات اور اقوال وافعال میں نفس اور شیطان کی مداخلت سے محفوظ ہو اور حفاظت غیبی اس کی محافظ اور نگہبان ہو کہ ان سے کوئی ایسی شئی سرزد نہ ہو جائے کہ اُن کے دامن عصمت کو آلودہ کر سکے۔”

(ج:1، ص:135، ط:مکتبہ معارف)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

”عصمت انبیاء:

سوال (۴۵۳) اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء ورسل معصوم ہیں ۔ عیسائی لوگ عصمت انبیاء کے قائل نہیں وہ صرف حضرت مسیح عیسی بن مریم کی عصمت کے قائل ہیں ۔ مسیحی پادریوں نے اپنی کتابوں میں مندرجہ ذیل آیات قرآنی کو پیش کیا ہے برائے مہربانی ان آیاتِ مبارکہ کا صحیح مطلب تحریر فرمائیے۔

(۱) حضرت آدم علیہ السلام کے بارہ میں ( سورہ طہ پارہ:۱۶) میں ہےوعصى آدم ربه فغوى۔ ( پارہ: ۸ سورۃ الاعراف) میں ہےربنا ظلمنا أنفسنا۔

(۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارہ میں ( سورۃ الانبیاء پارہ: ۱۷) میں ہے ،قال بل فعله كبيرهم هذا فاسئلوهم ان كانوا ينطقون۔

(۳) حضرت موسی علیہ السلام کے بارہ میں ( سورۃ الشعراء پارہ : ۱۹) میں ہےقال فعلتھا اذا وأنا من الضالين - ولهم على ذنب فأخاف أن يقتلون (۴) حضرت یونس علیہ السلام کے بارہ میں ( سورۃ الانبیاء پارہ: ۱۷) میں ہے لاإله إلا أنت سبحانک إنی كنت من الظالمین۔

(۵) حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں ( سورہ ص پارہ: ۲۳) میں ہے  وظن داؤد أنما فتنه فاستغفر ربه۔

(۶) حضرت نبی کریم ﷺ کے بارہ میں میں آیا ہےلیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر(۲)واستغفر لذنبك ( پاره: ۲۶)۔

الجواب ۔ اصول عقلیہ و نقلیہ قطعیہ مسلمہ سے ہے کہ محکم اور ظاہر میں اگر تعارض ہو تو ظاہر میں تاویل کریں گے یعنی اس کو ظاہر سے منصرف کر کے محکم کی طرف راجع کریں گے۔ اس مقدمہ کے بعد سمجھئے کہ حضرات انبیا علیہم السلام کی عصمت کے دلائل محکم ہیں اور اس کے خلاف کے دلائل اکثر تو ظاہر بھی نہیں، مثلا ً ظلم کے معنی لغت میں وضع الشئی فی غیر محله ہیں یعنی ہر بے موقع کام گوشرعاً اس میں کراہت یا حرمت بھی نہ ہو اور مثلاً ضلال کے معنی  عدول عن الطریق ہیں خواہ قبل علم بالطریق کے ہو جو کہ مذموم بھی نہیں  و وجدك ضالاً فھدی میں یہی مراد ہے خواہ بعد علم بالطریق کے ہو جو کہ مذموم ہےغیر المغضوب عليهم ولا الضالین میں یہی مراد ہے تو مقسم کا تحقق اس کی کسی خاص قسم کے تحقق کو مستلزم نہیں اوراذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال متقرر ہے اور مثلاً  فعله کبیرهم میں اسناد حقیقی کا احتمال بھی نہیں کیوں کہ مشاہدہ اس کا مکذب ہے، نیز اس کلام میں  إن کانوا ینطقوناس انتفاء کی صریح دلیل ہے۔ غرض ان کلمات کی دلالت مستدل کے مدعا پر ظاہر بھی نہیں، لیکن اگر ان کا ظاہر ہونا بھی سب میں مان لیا جاوے تب بھی بوجہ تعارض محکم کے ان کو ظاہر سے منصرف کیا جاوے گا یعنی یہ کہیں گے که عصیان و غوایت و ظلم و ضلال و ذنب وفتنہ کی صورت پر مجازاً ان الفاظ کا اطلاق کر دیا گیا ۔ اسی طرح فعله کبیرھم میں اسناد مجازی پر محمول کیا جاوے گا ۔ چنانچہ محاوارت میں ایسے اطلاقات بلانکیر با تفاق اہل لسان شائع و ذائع ہیں اور اہل حقائق کے مذاق پر  حسنات الابرار سيئات المقربين سب کا کافی جواب ہو سکتا ہے۔ غرض ہر حال میں خصم کا استدلال محض باطل ہو گا“۔

(کتاب العقائد والکلام، ج:6، ص:117، ط:مکتبہ دار العلوم، کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101573

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں