بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرض الموت میں کچھ جائیداد کا ورثاء کو ہبہ کرنا


سوال

ایک شخص کافی عرصہ سے دل کا مریض تھا،پھر اسی مرض میں اس کا انتقال ہوگیا،انتقال کے بعد اس کی بیوی ،بیٹا اور بیٹی کہتی ہیں کہ فلانی چیز یا فلانی جائیدادہمیں گفٹ کی تھی،اور ان کے پاس گواہ بھی نہیں ہیں،سوال یہ ہے کہ مرض الوفات میں اگر کوئی ہبہ کرے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟اور جب کہ اس ہبہ  پر کوئی گواہ بھی نہ ہو،اور ساتھ یہ بھی کہ یہ ہبہ بیوی اور بچوں کے لیے ہو۔

وضاحت:موھوبہ شئی مرحوم کے انتقال تک مرحوم کے قبضہ و تصرف میں ہی تھی۔

جواب

واضح رہے کہ   مرض الموت میں کسی چیز کا ہبہ(ہدیہ) کرنا وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، اور وارث کے لیے وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر شرعاً معتبر نہیں ہوتی،نیز عام ہبہ کی طرح مرض الموت میں کیے گئے ہبہ کےتام اور مکمل ہونے کے لیے بھی   ضروری ہے کہ  ہبہ کی گئی چیزکا مکمل قبضہ اس شخص کو  دے دیا جائے جسے وہ چیز ہبہ کی گئی ہے، اگر اسے قبضہ نہیں دیا تو یہ ہبہ ناتمام رہتا ہے اور وہ چیز بدستور اپنےاصل مالک کی ملکیت ہی میں رہتی ہے ،اور اس کے انتقال ہوجانے کی صورت میں اس کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ ورثاء  اگر  بالفرض اپنی  اس بات کو گواہوں سے  ثابت بھی کر دیں  کہ مرحوم نے یہ مکان ہمیں ہدیہ کیا تھا،  تو ایسی صورت میں ہبہ میں قبضہ کی شرط نہ پائی جانے کی وجہ سے یہ مکان مرحوم کے ترکہ میں شمار ہو گا، اورمرحوم  کی تمام جائیداد کی طرح اس مکان میں بھی تمام ورثاء اپنے شرعی حصہ کے بقدر حق دار ہوں گی۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل

(قوله: بالقبض)فيشترط القبض قبل الموت"۔

(كتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:سعيد)

وفيه أیضاً:

"(قوله: مريض مديون إلخ) [فروع] وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات بطلت الهبة، لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض"۔

(‌‌كتاب الهبة،‌‌ باب الرجوع في الهبة، ج:5، ص:700، ط:سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث"۔

(کتاب الوصایا، فصل:وأما شرائط الرکن الوصية، ج:7، ص:337، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101524

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں