
میں کچھ عرصہ سے عرق النسا کے درد کا شکار ہوں جو کہ اب شادی اور بچوں کے بعد بڑھ گیا ہے، ڈاکٹر نے کہا ہے کہ یہ مسلسل درد ہونا معذوری کی طرف لے جاتا ہے، آپریشن بھی کرنا پڑ سکتا ہے، ابھی مجھے آرام کا کہاہے، جھکنے، وزن اٹھانے سے منع کیا ہے اور بیٹھ کر اشارے سے نماز کا کہا ہے، اب درد میں بہتری ہے، پر جھکنے سے اٹھنے بیٹھنے سے درد کی شدت بڑھ جاتی ہے، کیا جب درد نا ہو تو بھی میں بیٹھ کر نماز پڑھ سکتی ہوں؟ کیوں کہ بار بار، اٹھنے بیٹھنے سے درد میں شدت آجاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو اگر نماز میں رکوع سجدہ کرنے کی وجہ سے مرض میں شدت کا خوف ہے تو ایسی صورت میں سائلہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتی ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدًا يركع ويسجد، هكذا في الهداية. وأصح الأقاويل في تفسير العجز أن يلحقه بالقيام ضرر، و عليه الفتوى، كذا في معراج الدراية، وكذلك إذا خاف زيادة المرض أو إبطاء البرء بالقيام أو دوران الرأس، كذا في التبيين. أو يجد وجعًا لذلك فإن لحقه نوع مشقة لم يجز ترك ذلك القيام، كذا في الكافي.
ولو كان قادرًا على بعض القيام دون تمامه يؤمر بأن يقوم قدر ما يقدر حتى إذا كان قادرًا على أن يكبر قائمًا و لايقدر على القيام للقراءة أو كان قادرًا على القيام لبعض القراءة دون تمامها يؤمر بأن يكبر قائمًا و يقرأ قدر ما يقدر عليه قائمًا، ثمّ يقعد إذا عجز، قال شمس الأئمة الحلواني -رحمه الله تعالى-: هو المذهب الصحيح، و لو ترك هذا خفت أن لاتجوز صلاته، كذا في الخلاصة."
(كتاب الصلوة، الباب الرابع عشر، ج:1، ص:136، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708102161
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن