
میرےبھائی نے انتقال سے پانچ دن پہلے اپنی بیوی کوتین طلاق دےدی اورمیرےبھائی نےاس طلاق کی خبر میری بڑی بہن اور ہماری چھوٹی بھابھی کودےدی اوراس طلاق کی تصدیق میری مطلقہ بھابھی اوران کے بڑےبھائی بھی کرتےہیں،اس صورت حال میں کیامیری بھابھی مطلقہ یابیوہ کہلائیں گی؟اورعدت بیوہ کی کریں گی یامطلقہ کی؟جبکہ وہ حاملہ بھی نہیں ہے،بیوہ نےبھائی کی زندگی میں اقرارکیاتھا،میرےبھائی جب بیمارتھا،اس کوخدمت کی ضرورت تھی،اس وقت چھوڑکرچلی گئی ، اب بھائی کی انتقال کےبعدواپس آگئی کہ مجھے معاف کرو،مجھ سے غلطی ہوئی۔
وضاحت :الفاظ طلاق یہ تھے"میں تمہیں طلاق دیتاہوں،میں تمہیں طلاق دیتاہوں،میں تمہیں طلاق دیتاہوں"اوربھائی ڈیلائسزکامریض تھاپاؤں نےکام چھوڑدیاتھا،مزیدصحت کی امیدنہیں تھی، آٹھ نو ماہ اس بیماری میں تھے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی کی بیوی کی عدت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ چونکہ سائل کےمرحوم بھائی نے اپنی بیوی کومرض وفات میں انتقال سےپانچ یوم پہلےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دےدی تھی ،تواب عدت کاحکم یہ ہےکہ سائل کی بھابھی عدت و فات(چارمہینہ دس دن) بشرطیکہ چاندکی پہلی تاریخ کوانتقال ہواہو،اگرچاندکی پہلی تاریخ کے بعدانتقال ہواہوتوعدت ایک سوتیس(130) دن عدت گزارنا لازم ہوگی تین ماہواریوں کےساتھ، اگرچارمہینہ دس دن میں تین حیض پورے نہ ہوں توتیسرا حیض جب تک پورا نہ ہو عدت مکمل نہ ہوگی، جب تیسرا حیض مکمل ہوجائے تو عدت پوری ہوجائے گی نیز چونکہ سائل کے بھائی نے اپنی بیوی کو مرض الموت میں تین طلاق دی تھی اور اسی مرض کے دوران اسی مرض کی وجہ سے اس کا انتقال بھی ہو گیا، تو ایسی صورت میں شرعاً یہ طلاق ہوگئی، لیکن چونکہ یہ طلاق مرض الموت میں دی گئی ہے، اس لیے سائل کی بھابھی کو وراثت کا حق حاصل ہوگا، وہ اپنے شوہر (سائل کے بھائی) کے ترکہ میں وارث شمار ہو گی اوراس کے میراث سےاس کوحصہ ملےگا،نہ دینے کی صورت میں دیگر ورثاءگنہگارہوں گے،اسے اپنے مرحوم شوہرکی میراث سے محروم کرناہرگزجائزنہیں۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"إذا طلق امرأته ثم مات، فإن كان الطلاق رجعيًا انتقلت عدتها إلى عدة الوفاة سواء طلقها في حالة المرض أو الصحة وانهدمت عدة الطلاق، وعليها أن تستأنف عدة الوفاة في قولهم جميعاً؛ لأنها زوجته بعد الطلاق إذ الطلاق الرجعي لايوجب زوال الزوجية، وموت الزوج يوجب على زوجته عدة الوفاة؛ لقوله تعالى: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرًا} [البقرة: 234] كما لو مات قبل الطلاق، وإن كان بائنًا أو ثلاثًا فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لاتنتقل عدتها؛ لأن الله تعالى أوجب عدة الوفاة على الزوجات بقوله عز وجل: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجًا يتربصن} [البقرة: 234] وقد زالت الزوجية بالإبانة، والثلاث فتعذر إيجاب عدة الوفاة فبقيت عدة الطلاق على حالها. وإن ورثت بأن طلقها في حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضي العدة فورثت اعتدت بأربعة أشهر وعشر، فيها ثلاث حيض، حتى أنها لو لم تر في مدة الأربعة أشهر، والعشر ثلاث حيض تستكمل بعد ذلك، وهذا قول أبي حنيفة، ومحمد، وكذلك كل معتدة، ورثت".
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل في بيان إنتقال العدة، ج:3،ص:200، ط:دارالكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"ولو طلقها طلاقا بائنا أو ثلاثا ثم مات وهي في العدة فكذلك عندنا ترث، ولو انقضت عدتها ثم مات لم ترث."
(کتاب الطلاق، الباب الخامس فی طلاق المریض، ج:1، ص:462، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102087
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن