بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی کریڈٹ کارڈ اور اس پر سروس چارجز کے نام سے رقم وصول کرنا


سوال

پاکستان کے ایک اسلامی بینک کی جانب سے اجرت  (سروس چارجز) پر مبنی کریڈٹ  کارڈ کے حوالے سے جاری کرده ایک مخصوص طریقہ کار، کلیکشن (Collection) کے طریقوں اور ریگولیٹری فورمز کے احترام کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش ہے، ہم اس معاملے میں قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور عصر حاضر کے مستند شرعی معیارات (AAOIFI) کی روشنی میں تفصیلی شرعی رہنمائی اور باضابطہ فتویٰ کے طلب گار ہیں۔

(صورت مسئولہ ) کیس کا پس منظر اور حقائق :

بینک  اجرت اور  سروس فیس کے ڈھانچے پر مبنی ایک اسلامک کریڈٹ کارڈ فراہم کرتا ہے، اس معاہدے کے تحت بینک کارڈ ہولڈر کو دی جانے والی خدمات کے عوض ایک طے شدہ ماہانہ منٹيننس فيس   (مثلاً 20,500 روپے)  وصول کرنے کا حق رکھتا ہے، تاہم  اس معاملے میں درج ذیل عملی حقائق مشاہدے میں آئے ہیں، جن سے اس فیس کی اصل نوعیت اور بینک کا طریقہ کار شدید اشکالات کا باعث بن رہا ہے :

1.  اختیاری اور امتیازی اطلاق : (Selective Application) یہ ماہانہ منٹینینس فیس تمام کارڈ بولڈرز سے یکساں طور پر وصول نہیں کی جاتی، یہ صرف ان صارفین پر لاگو کی جاتی ہے جو مقرره تاریخ( Due Date) تک مکمل ادائیگی نہیں کرتے، یا جزوی ادائیگی کرتے ہیں، جو صارف وقت پر مکمل ادائیگی کر دیتے ہیں، وہ اس منٹیننس فیس سے مستثنیٰ قرار دیے جاتے ہیں ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فیس کا تعلق خدمات سے نہیں، بلکہ تاخیر سے ہے۔

2.  بلاک شده کارڈز پر وصولی: بعض صورتوں میں جب صارف ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے، تو بینک کارڈ بلاک کر دیتا ہے اور تمام خدمات (Services) معطل کر دیتا ہے، خدمات مکمل طور پر بند ہونے کے باوجود بینک صرف اس بنیاد پر کہ کچھ رقم واجب الادا ہے، ہر ماہ پوری منٹیننس فیس (20,500) روپے وصول کرتا رہتا ہے۔

3.  فیس کا واجب الاداء  رقم میں شامل ہونا اور تراکم : (Accumulation of Fee) اگر کوئی صارف یہ مبینہ منٹیننس فیس ادا نہ کر سکے، تو یہ فیس صارف کے کارڈ کے اصل واجب الادا بیلنس (Outstanding Amount) کا حصہ بن جاتی ہے، یہ رقم کسٹمر کے ذمہ قرض کی طرح کھڑی رہتی ہے اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ہر ماہ مسلسل جمع (Accumulate) ہو کر مجموعی واجب الادا رقم میں مستقل بنیادوں پر اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔

4.  کلیکشن ڈیپارٹمنٹ کا دباؤ اور ای سی آئی بی (eCIB) کی دھمکی: بینک کا کلیکشن ڈیپارٹمنٹ صارفین پر اس جمع شده فیس کو بشمول اصل رقم ادا کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالتا ہے، مزید برآں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی ریگولیٹرہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے صارفین کو یہ وارننگ دی جاتی ہے کہ عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں ای سی آئی بی (eCIB) رپورٹ میں بطور ڈیفالٹر (Defaulter) ظاہر کر دیا جائے گا، جس سے صارف کی کریڈٹ ہسٹری Credit History مستقل طور پر متاثر ہوتی ہے۔

5. بینکنگ محتسب پاکستان (BMP) میں کارروائی کو نظر انداز کرنا: یہ پورا معاملہ اس وقت کارڈ ہولڈر کی جانب سے دائر کرده باقاعدہ شکایت پر بینکنگ محتسب پاکستان (Banking Mohtasib of Pakistan) کے پاس زیر جائزہ اور تحقیقات کے مراحل میں ہے، قانوناً اور اخلاقاً اس فورم پر کارروائی کے دوران متنازعہ رقم کی وصولی پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی یکطرفہ زبردستی نہیں ہونی چاہیے، لیکن بینک اس قانونی و ریگولیٹری کارروائی کی حیثیت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صارف پر متنازعہ رقم جمع کرانے کے لیے متواتر دباؤ ڈال رہا ہے۔

6.  ریگولیٹری فریم ورک (AAOIFI Standards):  ایوفی (AAOIFI) کے شرعی معیار نمبر 2 کریڈٹ کارڈ اور معیار نمبر   19 قرض کے مطابق ایسی کوئی بھی فیس یا چارج جو قرض کی رقم یا ادائیگی کی مدت سے مشروط یا جڑا ہو، شرعاً ممنوع ہے، کیونکہ یہ قرض پر نفع حاصل کرنے (کل  قرض جر نفعا فهو ربا) کے زمرے میں آتی ہے۔

مفصل سوالات :

 سوال نمبر  1:  فیس کی شرعی حیثیت: اگر یہ منٹينینس فیس صرف تاخیر کرنے والوں سے لی جاتی ہے اور ریگولر ادائیگی کرنے والوں سے نہیں، تو کیا یہ فیس شرعاً "اجرت اور جائز سروس فیس" کہلائے گی، یا اسے ربا یا  سود یاغرامہ، جرمانہ لیٹ پیمنٹ چارج کے زمرے میں رکھا جائے گا؟

سوال نمبر  2: آمدني بمقابلہ صدقہ: اسلامی بینکنگ کے مروجہ اصولوں کے تحت، اگر کوئی وصولی تاخیری ادائیگی کی وجہ سے جرمانے کے طور پر ہو تو کیا بینک اسے اپنی آمدنی  (Income) میں شامل کر کے نفع کما سکتا ہے؟ یا اسے لازمی طور پر صدقہ خیراتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ہو گا؟

سوال نمبر 3:  خدمات کے بغیر اجرت اور اکل بالباطل: کیا بینک کے لیے ایسی مدت کی منٹینینس فيس وصول کرنا جائز ہے؟ جس میں کارڈ مستقل بلاک ہو اور صارف کو کوئی سروس فراہم نہ کی گئی ہو؟ کیا یہ عمل شرعى قاعدہ (اكل الاموال بالباطل) ناحق مال كھانے کے زمرے میں نہیں آتا؟

سوال نمبر  4: فیس کے تراکم اور سود در سود کا شبہ: جب یہ مبینہ فیس ادا نہ ہونے پر کسٹمر کے آوٹ اسٹینڈنگ بیلنس کا حصہ بن کر ہر ماه مسلسل بڑھتی رہتی ہے، تو کیا یہ صورت حال دور جاہلیت کے اس سود اور  ربا الجاہلیہ کے مشابہ نہیں ہے جس میں کہا جاتا تھا کہ یا تو قرض ادا کرو يا رقم بڑھاؤ؟ "إما أن تقضي وإما أن تربي" اس طرح فیس پر فیس جمع کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال نمبر 5:  فليٹ فیس کا عذر اور سود مرکب کا اثر: اگر بینک یہ عذر پیش کرے کہ یہ فیس  فیصد  (Percentage) کے اصول پر مبنی سود مركب (Compounding Interest) نہیں ہے، بلکہ ایک فکسڈ یا فلیٹ رقم (Flat Fee) ہے، جو ہر ماہ محض ایک نئی فیس کے طور پر لگتی ہے؛ تو کیا محض رقم کے فکسڈ ہونے سے اس کا شرعی حکم بدل جائے گا؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بغیر کسی نئی خدمت (Service) کے، محض وقت گزرنے (Time Factor) اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے گاہک کی مالی ذمہ داری میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، جو کہ اپنے نتیجے اور معاشی اثر (Financial Impact) کے اعتبار سے سود مرکب ہی کی مانند ہے، کیا شرعاً تراكم دين (Debt Accumulation) کا یہ حیلہ جائز ہے؟

سوال نمبر  6: قانونی ثالثی کارروائی کے دوران یک طرفہ دباؤ: جب ایک متنازعہ مالیاتی معاملہ کسی قانونی یا ریگولیٹری ثالثی ادارے مثلاً بینکنگ محتسب پاکستان کے پاس باقاعده زیر سماعت (Sub-judice) ہو، تو کیا شرعی طور پر بینک کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ حتمی فیصلے کا انتظار کیے بغیر یک طرفہ طور پر صارف پر دباؤ ڈالے؟ کیا شریعت کے باب قضا و ثالثی (Dispute Resolution) کی رو سے کارروائی کے دوران تعزیری اقدامات اٹھانا جائز ہے؟

سوال نمبر  7: ای سی آئی بی رپورٹنگ اور ریگولیٹری دباؤ: کیا اسلامی بینک کے لیے شرعی طور پر یہ جائز ہے کہ وہ ایک ایسی فیس کی وصولی کے لیے جو شرعی طور پر شدید مشکوک ہو، ریاستی ریگولیٹر اسٹیٹ بینک کے قوانین کا سہارا لے کر گاہک کو eCIB میں بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دے؟ کیا اس طریقہ کار کے تحت کسٹمر کی کریڈٹ ہسٹری خراب کرنا ظلم اور ناجائز دباؤ کے زمرے میں آئے گا یا نہیں؟

سوال نمبر  8: شرعی حیلہ اور مکر: کیا جرمانے (Penalty) کو مینٹینینس فیس  کا لیبل لگا کر بینک کی آمدنی کا حصہ بنانا اور خیراتی اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے سے بچنا ایک ایسا حیلہ باطلہ (رخصت ممنوعہ) ہے جس میں صریح ربا کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے؟

براه کرم ان تمام امور پر قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی شرعی حکم صادر فرما کر ممنون فرمائیں۔ بینوا توجروا

جواب

سوال میں کچھ  اداروں کا ذکر کیا گیا ہے، مناسب ہے کہ جواب کی ابتداء میں ان کا مختصر تعارف لکھ دیا جاوے؛ تا کہ عام قارئین کے لیے استفادہ تام ہو سکے، اگرچہ ان باتوں کے جاننے پر شرعی حکم کا جاننا موقوف نہیں ہے۔

1. ریگولیٹری فورمزسے مراد وہ سرکاری یا قانونی ادارے اور پلیٹ فارم ہوتے ہیں جو مالیاتی معاملات، بینکاری تنازعات، قرضوں کی وصولی اور ضوابط کی نگرانی کرتے ہیں، پاکستان میں اس سے مراد   اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکنگ محتسب پاکستان ہوتے ہیں۔

2. AAOIFI ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو اسلامی بینکاری، تکافل، سرمایہ کاری، صکوک اور دیگر مالیاتی معاملات کے لیے شرعی معیارات جاری کرتا ہے۔

3. eCIB ایک کریڈٹ انفارمیشن سسٹم ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت چلایا جاتا ہے، اس میں بینک اور مالیاتی ادارے اپنے صارفین کے قرضوں، فنانسنگ، کریڈٹ کارڈز اور ادائیگیوں کا ریکارڈ جمع کراتے ہیں۔

4. بینکنگ محتسب پاکستان  ایک آزاد ادارہ ہے، جو بینکوں اور صارفین کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات اور شکایات کا ازالہ کرتا ہے۔

پھر آپ نے سوال میں جن جزئیات سے متعلق پوچھا ہے ان سوالات کے جوابات سے پہلے مختصر طور پر تمہیداً کچھ باتیں لکھی جاتی ہیں:

پہلی بات یہ کہ کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت کارڈ ہولڈر کارڈ جاری کرنے والے ادارے سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر  میں نے مستقبل میں وقت پر ادائیگی نہیں کی تو میں اس تاخیر کے نتیجے میں  ادارے کو سود ادا کروں گا، گویا سود  کی ادائیگی پر رضامندی کا اظہار کرتا ہے، اور  جس طرح سود کی ادائیگی کرنا شرعاً جرم اور سخت گناہ کا کام ہے اسی طرح سود کی ادائیگی پر رضامندی کا اظہار اور اس کا وعدہ کرنا بھی گناہ ہے۔(1)

دوسری بات یہ کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مروجہ اسلامی بینکوں میں کسی ناجائز معاملے میں محذور شرعی سے بچنے کے لیے کوئی اسلامی صورت اختیار کی جاتی ہے؛ تا کہ ممنوعاتِ شرعیہ سے بچا جا سکے، لیکن درحقیقت وہ صرف ناموں کی تبدیلی ہوتی ہے اور کام کنوینشنل بینکوں والا ہو رہا ہوتا ہے، سوال میں ذکر کردہ  صورت میں بھی قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاخیر سے رقم کی ادائیگی کا جرمانہ وصول کیا جا رہا ہے اور نام اس کو سروس چارجز کا دیا جا رہا ہے اور فقہِ حنفی میں مالی جرمانہ وصول کرنا شرعاً ناجائز ہے،(2) پھر قرینہ اس بات پر کہ یہ مالی  جرمانہ ہے، نہ کہ سروس چارجز، یہ ہے کہ جو صارفین وقت پر ادائیگی کر دیتے ہیں ان کو مذکورہ رقم سے مستثنٰی قرار دے دیا جاتا ہے اور جو صارفین تاخیر سے رقم ادا کرتے ہیں ان پر اس رقم کو لاگو کیا جاتا ہے، اگر یہ رقم واقعۃً سروس چارجز ہی ہوتی تو بلا امتیاز تمام صارفین سے وصول کی جا رہی ہوتی ۔

نیز جن صار فین کا کارڈ کسی وجہ سے  بلاک کر دیا جاتا ہے اور ان کے اوپر واجب الاداء رقم باقی ہوتی ہے ان سے بھی ہر مہینے مذکورہ رقم مکمل طور پر وصول کی جا رہی ہوتی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ سروس چارجز نہیں، بلکہ یہ تاخیر سے رقم ادا کرنے پر مالی جرمانہ اور سود ہے، اگر واقعۃً یہ رقم سروس چارجز ہوتی تو خدمات کے تعطل کی بنا پر یہ چارجز بھی ختم کر دیے جاتے، سروس کے تعطل کے باوجود چارجز کا ختم نہ ہونا اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہ سروس چارجز نہیں، بلکہ تاخیر سے ادائیگی کا جرمانہ ہے۔

مذکورہ تمہید کے بعد بالترتیب آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں:

1.  مذکورہ رقم جو کارڈ جاری کرنے والے ادارے کی طرف سے وصول کی جاتی ہے، اگرچہ اس کو مینٹیننس فیس یا سروس چارجز کا عنوان دیا جا رہا ہے، لیکن قرا ئن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مینٹیننس فیس یا سروس چارجز نہیں ہیں، بلکہ  تاخیر سے ادائیگی کرنے کی صورت میں نام بدل کر جرمانہ وصول کیا جا رہا ہے، اس لیے مذکورہ رقم کا وصول کرنا ادارے کے لیے ناجائز ہے۔

2. کسی شخص یا کسی ادارے کو اگر کوئی ایسی رقم  موصول ہو جائے جس کا وصول کرنا جائز نہیں تھا تو اس کا حکم یہ ہے کہ اصل مالک کو واپس کر دی جائے، جب تک اصل مالک کو واپس کرنا ممکن ہو کسی دوسری صورت کو اختیار کرنا جائز نہیں، لیکن اگر تمام تر کوششوں کے باوجود اصل مالک کو واپس کرنا ممکن نہ ہو پائے تو ایسی صورت میں اس رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر  غرباء میں صدقہ کیا جائے گا، ادارہ اس کو اپنے  منافع میں شامل نہیں کر سکتا۔(3)

3. چونکہ بینک اس کو سروس چارجز اور مینٹیننس فیس کے عنوان سے وصول کر رہا ہوتا ہے تو کارڈ کے بلاک ہونے کی صورت میں بدرجہ اولیٰ اس رقم کو وصول کرنا ناجائز ہو گا؛(4) کیوں کہ اس صورت میں نہ کوئی سروس فراہم کی جا رہی ہے اور نہ کسی قسم کی مینٹیننس کی ضرورت ہے، لہذا یہ رقم لینا ناجائز ہی ہوگا۔(5)

4. اگر مذکورہ رقم کو صارف کے واجب الاداء رقم  کا حصہ بنا دیا جاتا ہے جس پر ہر مہینے اضافہ ہوتا رہتا ہے تو یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہ ایک سودی معاملہ ہے جس میں کارڈ ہولڈر  اور ادارہ دونوں گناہ گار ہوں گے، لہذا اس معاملے کو ختم کرنا، اس سے توبہ کرنا اور آئندہ ایسا معاملہ نہ کرنا فریقین پر لازم ہے۔

5. محض کسی رقم کے فکس (متعین) ہو جانے سے وہ جائز نہیں ہو جاتی، بلکہ کسی بھی رقم کی وصولی کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرعی ضابطوں میں سے کسی ضابطے کے تحت داخل ہو، نیز  چونکہ پہلے لکھا گیا کہ قرائن سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مالی جرمانہ اور سود ہے؛ اس لیے اس رقم کی حقیقت اور اس کا حکم وہی رہے گا جو سابق میں بیان ہوا، اس کو سود ہی کہا جائے گا اور بطور حیلہ اس کو کوئی دوسرا نام دینا بھی شرعاً ناجائز ہوگا۔

6. چوں کہ مذکورہ رقم سودِ محض ہے، اس لیے دورانِ عدالتی کارروائی اور بعد از عدالتی کارروائی کسی بھی صورت میں ادارے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ تعزیراتی اقدامات اٹھاتے ہوئے آپ سے اس رقم کا مطالبہ کرے؛ اس لیے کہ تعزیر کا مقصد جرائم سے روک تھام ہے، نہ یہ کہ تعزیراتی اقدام کے ذریعہ ناجائز امور کی ترویج ہو۔

7. چونکہ مذکورہ معاملہ سودی ہے؛ لہذا صارف پر بھی لازم ہو گا کہ اس معاملے کو ختم کرے اور ادارے پر بھی لازم ہے کہ صارف کو مذکورہ رقم سے بری کر دے، بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دینا یا دیگر کسی بھی دباؤ میں لا کر یہ رقم وصول کرنا ادارے کے لیے جائز نہیں ہے ۔

8. معاملات میں محض ناموں کو بدل دینے کی وجہ سے حکم نہیں بدل جاتے، اگر مذکورہ رقم نام کی تبدیلی کے ساتھ بطور جرمانہ وصول کی جا رہی ہے، تو محض  لیبل اور عنوان بدل دینے کی وجہ سے یہ بینک کی آمدنی کا حصہ نہیں بنے گا، بلکہ یہ ناجائز رقم ہی ہو  گی اور اس قسم کے حیلے اختیار کرنا شرعاً ناجائز ہیں۔(6)

گزشتہ سطور میں جو تفصیل لکھی گئی اس سے واضح ہوا کہ مذکورہ طریقے اور حیلے کی بنیاد پر مروجہ اسلامی بینکوں سے کریڈٹ کارڈ بنوانا اور  وصول کرنا جائز نہیں ہے، لہذا سائل نے اگر کسی اسلامی بینک سے کریڈٹ کارڈ بنوایا ہے اور اس کو وصول کیا ہے تو اس کو فوراً کالعدم کروائے اور اب تک جو کریڈٹ کارڈ استعمال کیا اس پر توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے۔

(1) جامع العلوم والحکم لإبن رجب میں ہے:

"الرضا بالخطايا من أقبح المحرمات، ويفوت به إنكار الخطيئة بالقلب، وهو فرض على كل مسلم، لا يسقط عن أحد في حال من الأحوال."

(الحدیث الرابع والثلاثون، جلد : 2، صفحہ: 245، ط: مؤسسۃ الرسالۃ- بيروت)

تفسیر قرطبی میں ہے:

" إن الرضا بالمعصية معصية."

(سورۃ النساء،418/5، ط: دار الكتب المصرية - القاهرة)

(2) مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."

(کتاب البیوع،باب الغصب والعاریة،الفصل الثانی،ج1،ص261،رحمانیه)

الدر مع الرد میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال

(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.

(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب فی التعزیر باخذالمال ،4/61،ط:سعید)

(3) الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي میں ہے:

"1 - المال الحرام: هو كل مال حظر الشارع اقتناءه أو الانتفاع به ‌سواء ‌كان ‌لحرمته ‌لذاته، بما فيه من ضرر أو خبث كالميتة والخمر، أم لحرمته لغيره، لوقوع خلل في طريق اكتسابه، لأخذه من مالكه بغير إذنه كالغصب، أو لأخذه منه بأسلوب لا يقره الشرع ولو بالرضا كالربا والرشوة.

2 - أ) حائز المال الحرام لخلل في طريقة اكتسابه لا يملكه مهما طال الزمن، ويجب عليه رده إلى مالكه أو وارثه إن عرفه، فإن يئس من معرفته وجب عليه صرفه في وجوه الخير للتخلص منه وبقصد الصدقة عن صاحبه.

ب) إذا أخذ المال أجرة عن عمل محرم فإن الآخذ يصرفه في وجوه الخير ولا يرده إلى من أخذه منه.

ج) لا يرد المال الحرام إلى من أخذ منه إن كان مصرا على التعامل غير المشروع الذي أدى إلى حرمة المال كالفوائد الربوية بل يصرف في وجوه الخير أيضا.

د) إذا تعذر رد المال الحرام بعينه وجب على حائزه رد مثله أو قيمته إلى صاحبه إن عرفه وإلا صرف المثل أو القيمة في وجوه الخير وبقصد الصدقة عن صاحبه."

(‌‌زكاة المال الحرام، ج:10، ص: 7945، ط:دار الفكر)

(4) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"فإن عرض في المدة ما يمنع الانتفاع ... سقطت الأجرة بقدر ذلك." 

(كتاب الاجارة ، الباب الثاني، جلد : 4، صفحه: 413، طبع: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے :

"والأجرة إنما تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل".

(کتاب النکاح ،باب المہر،ج:3، ص: 156 ،سعید)

(5) المعاملات المالیہ  أصالۃ  ومعاصرة میں ہے:

"عرف الأجير المشترك: هو من يكون عقده واردا على عمل معلوم ببيان محله، ويعمل للمؤجر ولغيره كالنجار، والحداد، والبناء، والقصار ...... أن الأجير المشترك ‌يستحق ‌الأجرة ‌بالعمل، لا بتسليم النفس؛ لأنه يعمل للعامة، ولأن المعقود عليه هو العمل فلا يستحق أجرة إذا لم يعمل."

(‌‌عقد المقاولة،‌‌الباب الأول،‌‌الفصل الأول،‌‌المبحث الثاني،‌‌القول الثاني،8/ 337)

مجمع  الضمانات میں ہے:

"الأجير على نوعين: أجير مشترك ... فالأجير المشترك هو الذي ‌يستحق ‌الأجرة ‌بالعمل لا بتسليم النفس كالقصار والصباغ."

 

(باب مسائل الإجارة،القسم الثاني في الأجير ،‌‌المقدمة في الكلام على الأجير المشترك والأجير الخاص،ص:27، ط:دار الكتاب الإسلامي)

(6) فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"‌كل ‌حيلة ‌يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة."

(كتاب الحيل، الفصل الاول، جلد : 6، صفحه: 390، طبع : دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100873

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں