
مارخور انرجی ڈرنک نام کی ایک کمپنی ہے، جو ہر مہینے لکی ڈرا کے نام سے قرعہ اندازی کرتی ہے، صورت یہ ہوتی ہے کہ صارف ان کے نمبر پر تین ہزار روپے بھیجتا ہے اور مخصوص تاریخ پوری ہونے پر قرعہ اندازی ہوتی ہے، نام نکل آنے کی صورت میں موبائل، گاڑی غیرہ دیے جاتے ہیں۔
اس کا شرعا کیا حکم ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اس قسم کے لکی ڈرا میں مختلف لوگ انعامات کے حصول کے لیے رقم جمع کراتے ہیں، کسی کو جمع شدہ رقم سے زیادہ انعام ملتا ہے،اور کسی کی جمع شدہ رقم ضائع ہو جاتی ہے، اس طرح کا معاملہ شرعاً قمار(جوا) کہلا تا ہے،جو شرعاً نا جائز ہے، لہذا ایسی کسی بھی لکی ڈرا میں حصہ لینے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ."(المائدة : 90)
ترجمہ :"اے ایمان والو بات یہی ہے، کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں ہیں، شیطانی کام ہیں،سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔"(بیان القرآن )
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر."
(كتاب البيوع والأقضية، ج: 12، ص: 336، ط: دار كنوز إشبيليا)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 403، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100030
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن