بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ کی ایک بیٹی اور بھتیجوں کے درمیان میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

ایک عورت کا انتقال ہو گیا، اس کے والدین شوہر اور بہن بھائی ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے تھیں،اس کی دو بیٹیاں تھیں، ان میں سے ایک بیٹی ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گئی تھی،اب ایک بیٹی زندہ ہے، مرحومہ کےورثاء میں ایک بیٹی، 16 بھتیجے اور 17 بھتیجیاں ہیں۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ مرحومہ کہ جس بیٹی کا انتقال ان کی زندگی میں ہوا، ان کو یا ان کی اولاد کو مرحومہ کے میراث میں سے کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟

نیز یہ بھی بتائیں کہ مذکورہ ورثاء میں سے کس کو کتناحصہ ملےگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ زاہدہ  کے ترکہ  کی تقسیم کا شرعی طریقۂ کار یہ ہے کہ  مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی مال کےایک تہائی میں  نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ( منقولہ وغیرمنقولہ) کو32حصوں میں تقسیم کرکے16 حصے مرحومہ کی بیٹی کو،اور 1،1 حصہ مرحومہ کے ہر ایک بھتیجے کوکو ملےگا۔

نوٹ: مرحومہ کے جس بیٹی کا انتقال ان کی زندگی میں ہواتھا اس کو اور اس کی اولاد کو، اور مرحومہ کی بھتیجیوں کو مرحومہ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملےگا۔

ہاں البتہ اگر کوئی وارث اپنے حصے میں سے کچھ دینا چاہےتو دے سکتا ہے، اور یہ باعث اجر و ثواب ہوگا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:32/2

بیٹیبھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجابھتیجا
11
161111111111111111

یعنی فیصد کے اعتبار سے50 فیصد مرحومہ کی بیٹی کو،3.125 فیصد مرحومہ کے ہر ایک بھتیجے کو ملےگا۔

مشکوٰ ۃ المصابیح میں ہے:

"وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ". رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي".

ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "سب سے افضل دینار وہ ہے جوآدمی آپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواپنے جانور پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواللہ تعالی کے راستے میں اپنے دوست واحباب پرخرچ کرتا ہے ۔"

(کتاب الآداب،باب افضل الصدقۃ، ج:1، ص:604، ط: المکتب الاسلامی)

 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص:757، ط: سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط."

(کتاب الفرائض،الفصل الثالث فی العصبات، ج:6، ص:451، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100817

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں