
میری بیوی کا انتقال ہوگیاہےاس کےورثاء میں شوہراورایک بھائی ہے،اس کےترکہ میں سونااورسامان تھااب وہ شرعی طورپرکس کی ملکیت ہے؟اسی طرح کچھ سونابطورہدیہ ملاتھاشوہر کی طرف سےوہ کس کی ملکیت شمارہوگااسی طرح ان کا اپنی والدہ کی طرف سے مکان میں بھی حصہ تھاجس میں ابھی ان کابھائی رہ رہاہے،کیوں کہ ان کی والدہ کےورثاءمیں صرف ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی تو اس مکان میں اس بیٹی کا کتناحصہ ہوگا؟میری بیوی کےوالدکابھی انتقال ہوچکاہےاوردادا،دادی کابھی انتقال پہلےہی ہوچکاہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کی ملکیت کاساراسونا (جوشوہرنےہدیتاًدیایا مرحومہ کو کہیں اور سے ملا) مرحومہ کاترکہ ہے،اسی طرح مرحومہ کاوالدہ کی طرف سےملنےوالاحصہ بھی اب مرحومہ کاترکہ ہےجوکہ اس کےشرعی ورثاءشوہراوربھائی میں تقسیم کیاجائےگا۔
ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحومہ کےحقوق متقدمہ (کفن دفن کےاخراجات توشوہرکےذمہ تھے،اس کےعلاوہ)مرحومہ کے ذمہ اگرکوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ ( منقولہ غیرمنقولہ) کو دوحصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ مرحومہ کےشوہرکواورایک حصہ مرحومہ کےبھائی کوملےگا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
میت 2
| شوہر | بھائی |
| 1 | 1 |
یعنی فیصد کےاعتبارسے50فیصدمرحومہ کےشوہرکواور50 فیصدمرحومہ کےبھائی کوملےگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر المختار) … أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج: 2، ص: 206، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"كل أحد يعلم أن الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها.
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا.
(جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) بل تختص به (وبه يفتى)."
(كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 135/158، ط: سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100870
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن