
میری شادی کو گیارہ سال ہو چکے تھے اور ہم میاں بیوی خوشی سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ ہماری کوئی اولاد نہیں تھی، میری اہلیہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ ان کے والدین نے جہیز میں جو گھر کا سامان اور دو عدد چوڑیاں دی تھیں، میری اہلیہ کہتی تھیں کہ یہ سامان اور چوڑیاں میری ذاتی ملکیت ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اسے فروخت کر کے اپنا علاج معالجہ کروایا اور گھر میں کچھ تعمیرات بھی کروائیں۔ میرا چھت پر صرف ایک کمرہ تھا جس میں ہم رہتے تھے، ہم نے اس رقم سے اسے تعمیر کروا لیا۔ آج سے گیارہ دن قبل میری اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب سسرال والے جہیز میں دیے گئے سامان اور ان دوعدد چوڑیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ میری بیوی کی زندگی میں یہ سب ان کی ذاتی ملکیت تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا سسرال والوں کا جہیز میں دیے گئے سامان اور دو عدد چوڑیوں کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جہیز کا سامان اور چوڑیاں شرعاً مرحومہ کی ہی ذاتی ملکیت تھیں، اور انہیں اپنی زندگی میں اس مال کو اپنی مرضی سے استعمال کا مکمل اختیار حاصل تھا، لہذا اگر واقعتًا مرحومہ نے اپنی مرضی سے وہ سامان اور چوڑیاں فروخت کر کے رقم اپنے علاج اور شوہر کے گھر کی تعمیر پر خرچ کر دی تھی، اورآپ نے اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا یا آپ سے ان کی ا س سلسلے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی تو شرعاً بیوی کا یہ عمل اپنی ذات پر خرچ اور شوہر کے حق میں احسان (تبرع) شمار ہوگا۔
نیز شرعی اصول کے مطابق وراثت (ترکہ) صرف اس مال میں جاری ہوتی ہے جو انتقال کے وقت میت کی ملکیت میں موجود ہو۔ جو چیزیں مرحومہ نے اپنی زندگی میں خود خرچ کر دیں یا فروخت کردیں، وہ مرحومہ کے ترکہ کا حصہ نہیں رہیں۔
لہٰذا سسرال والوں کا ان فروخت شدہ چوڑیوں اور استعمال ہو جانے والے جہیز کے سامان کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، اور آپ پر ان کی قیمت یا متبادل دینا لازم نہیں ہے۔ البتہ انتقال کے وقت مرحومہ کی ملکیت میں جو نقدی، سونا، چاندی یا سامان موجود تھا، صرف اسی میں وراثت جاری ہوگی۔
حاشيۃ ابن عابدين میں ہے :
"فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله."
(کتاب الطلاق، باب العدة، ج: 3، ص:585، ْ: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له."
(كتاب الخنثى، مسائل شتی، ج: 6، ص: 747، سعید)
قواعد الفقه میں ہے:
"لا رجوع فيما تبرع عن الغير."
(قواعد الفقه، ص :106، رقم القاعدة: 251، ط: الصدف پبلشرز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101049
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن