بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کے ترکہ سے علاج پر خرچ شدہ صدقات و خیرات کی واپسی کا شرعی حکم


سوال

ہمارے والد مرحوم چند دن پہلے وفات پا گئے ہیں۔ ہماری ملاقات والد مرحوم سے وفات سے کچھ دن قبل ہی ہوئی تھی، یعنی ہم نے اپنی زندگی میں والد مرحوم کے لیے کچھ نہیں کیا۔ دراصل میری پیدائش ہی سے والدین الگ ہوگئے تھے اور والد صاحب ذہنی مریض تھے، اس لیے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ اب جب ان کا انتقال ہوگیا ہے تو وراثت کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ ہمارے ددھیال والے ہمیں وراثت کے پیسے دینا چاہتے ہیں، لیکن ہمارے خیال میں ہم نے والد صاحب کے لیے کچھ نہیں کیا، اور غالباً ان کے علاج پر انھوں نے صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ کے پیسے استعمال کیے ہوں گے۔ لہٰذا آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ وراثت ہمارا حق ہے یا ان لوگوں کو وہ تمام رقم واپس کی جائے جو انھوں نے والد صاحب پر خرچ کی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنے والد کے ترکہ میں جو شرعی حصہ بنتا ہے، وہ لے سکتی ہے۔ البتہ مرحوم والد کے علاج پر جو رقم صدقہ اور خیرات وغیرہ سے خرچ کی گئی ہو، انہیں لوٹانا ضروری نہیں۔ ہاں اگر مرحوم والد کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی، ورثاء پر ترکہ تقسیم کرنے سے قبل ضروری ہے۔ اور اگر سائلہ ترکہ میں سے اپنے حصہ وصول کرنے کے بعد والد کے ایصالِ ثواب کے لیے خرچ کرنا چاہے تو ایسا کر سکتی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"والأصل فيه ما روي «أن بريرة رضي الله عنها كانت يتصدق عليها وكانت تهدي ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان يأكل منه ويقول: ‌هو ‌لها ‌صدقة، ‌ولنا ‌هدية» وكذلك الفقير إذا مات وترك مالا جمعه من الصدقات، ووارثه غني يحل له أكله لما قلنا."

(كتاب المكاتب، فصل في بيان ما يملك المكاتب من التصرفات وما لا يملكه، ج : 4، ص : 146، ط : دار الكتب العلمية)

فيض الباری على صحيح البخاری میں ہے:

"ففي «القنية»: المتبرع لا يرجع فيما تبرع به، فباب الرجوع لا يمشي في التبرعات، بخلاف الهبة."

(كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب هبة الواحد للجماعة، ج : 4، ص: 58، ط : دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"الحجب فقال (ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت)أي الأبوان والولدان (والزوجان)."

(کتاب الفراض، فصل في العصبات،  ج : 6، ص : 779، ط : سعید)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم تقضى ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ثم يقسم الباقي بين ورثته. 

ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله لقوله - تعالى -: {من بعد وصية يوصي بها أو دين} [النساء: 11] وأنه يقتضي تأخر القسمة عن الدين والوصية، ولا يقتضي تقدم أحدهما على الآخر، فإن من قال: أعط زيدا بعد عمرو أو بكر لا يقتضيتقدم أحدهما على الآخر لكن يقتضي تأخر زيد عنهما في الإعطاء فكانت الآية مجملة، وقد بلغنا «أن النبي عليه الصلاة والسلام قدم الدين على الوصية» فكان بيانا لحكم الآية، رواه عنه علي رضي الله عنه، ولأن الدين مستحق عليه، والوصية تستحق من جهته، والمستحق عليه أولى لأنه مطالب به ; لأن فراغ ذمته من أهم حوائجه، قال عليه الصلاة والسلام: «الدين حائل بينه وبين الجنة» ، ولأن أداء الفرائض أولى من التبرعات."

(‌‌كتاب الفرائض، ج : 5، ص : 85، ط : دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: ‌الأفضل ‌لمن ‌يتصدق ‌نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة، لكن استثنى مالك والشافعي العبادات البدنية المحضة كالصلاة والتلاوة فلا يصل ثوابها إلى الميت عندهما، بخلاف غيرها كالصدقة والحج. وخالف المعتزلة في الكل، وتمامه في فتح القدير."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج : 2، ص : 243، ط : سعید)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144703100020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں