بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مال مغصوبہ ترکہ میں سے اس کے مالک کو لوٹانا لازم ہے


سوال

2009ء میں میرے والد صاحب نے میرے لوکر سے سو تولہ سونا لیا تھا، اس وقت مجھے اس بات کا علم نہیں تھا، اس بات پر والدہ اور میرے والد صاحب سے بات بند ہوگئی، 2011ء میں والد صاحب کا انتقال ہوا، پھرمیں نے کچھ عرصہ پہلے والدہ سے اس سونے کو طلب کیا تو بات بڑھ گئی، اور درمیان میں ماموں آئےتو مجھےپینتالیس تولہ سونا واپس مل گیا، لیکن اب پچپن تولہ سونا دینے سے انکار کررہی ہیں، مذکورہ سونا میرے شوہر کا تھا، اب والدہ کے پاس والد صاحب کی تمام ملکیت موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میں والدہ سے اب پچپن  تولہ سونا والد کی ملکیت سے لے سکتی ہوں یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً والد نے سائلہ کے لوکر سے سونالیا تھا تو ان پر اسے واپس کرنا لازم تھا، اب چوں کہ والد کا انتقال ہوگیا ہےتو سائلہ والد کے ترکہ سے اپنا حق وصول کرسکتی ہے اور  والدہ پر لازم ہے کہ وہ مرحوم کے ترکے میں سے بقیہ پچپن تولہ سونا سائلہ کو واپس کرے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويجب رد عين المغصوب) ما لم يتغير تغيرا فاحشا مجتبى (في مكان غصبه)...(أو) يجب رد (مثله إن هلك وهو مثلي وإن انقطع المثل)."

(‌‌كتاب الغصب، ج:6، ص:186، ط: سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: يوم الغصب وقال محمد - رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع كذا في الكافي."

(كتاب الغصب،الباب الأول في تفسير الغصب وشرطه وحكمه، ج:5، ص:119، ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامی  میں ہے:

"كل من التركة والحقوق هاهنا خمسة بالاستقراء لأن الحق إما للميت أو عليه أو لا ولا: الأول التجهيز والثاني إما أن يتعلق بالذمة وهو الدين المطلق أو لا وهو المتعلق بالعين."

(کتاب الفرائض، 6، ص:757، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100769

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں