
میرے بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو والد کے ترکہ میں سے جو زمین تھی، اس کا حصہ دینا تھا، تو بڑے بھائی نے اپنی اہلیہ سے 6 تولہ سونا 1978 میں بطور تعاون لیا اور اس کو بیچ کر 80000 اپنے چھوٹے بھائی کو دیا، اب بڑے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے اور اس بھائی کی بیوہ کہتی ہے کہ مجھے آج کے حساب سے اس چھ تولہ سونے کی قیمت دو، تو سوال یہ ہے کہ بھائی کی بیوہ پہ مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
میرا ایک بھائی غیر شادی شدہ تھا، اس نے اپنا چار تولہ سونا اپنی بھابھی کے پاس امانت رکھوایا تھا اور اب اس بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، اب میری بہن بھابھی سے سونے کا مطالبہ کیا تو بھابھی نے کہا کہ اگر وہ زندہ ہوتا، تو میں اس کو دیتی، اب جب وہ فوت ہوچکا ہے، تو یہ سونا میرا ہے، اب سوال یہ ہے کہ بھابھی کا یہ دعوی کرنا کہ یہ سونا میرا ہے، درست ہے؟ یا ورثاء کو واپس کرنا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مرحوم بھائی کی بیوہ نے مذکورہ سونا اپنے شوہر کو بطورِ تعاون کے دیا تھا، بطورقرض کے نہیں دیا تھا، تو بیوہ کو اب یہ حق نہیں کہ وہ اس سونے کا مطالبہ کرے اور اگر بطورِ قرض کے دیا تھا، تو وہ چھ تولے سونا اپنے مرحوم شوہر سے مطالبے کا حق رکھتی تھی اور اب شوہر کے انتقال کے بعد مرحوم شوہر کے ترکہ سے وصول کرسکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويمنع الرجوع فيها) حروف (دمع خزقه) يعني الموانع السبعة الآتية.
(قوله: ويمنع الرجوع إلخ) هو كقول بعضهم
ويمنع الرجوع في فضل الهبه … يا صاحبي حروف دمع خزقه
قال الرملي: قد نظم ذلك والدي العلامة شيخ الإسلام محيي الدين فقال: منع الرجوع من الواهب سبعة … فزيادة موصولة موت عوض .....وخروجها عن ملك موهوب له."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:699، ط:سعيد)
واضح رہے کہ امانت رکھوانے والا شخص جب امانت وصول کرنے سے قبل فوت ہوجائے، تو امانت میں رکھی ہوئی چیز اس کی میراث میں شامل ہو کر اس کے ورثاء کے درمیان شرعی طریقہ کار کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
الموسوعۃ الفقہیۃ الکوتیۃ میں ہے:
"فإن توفي صاحب الوديعة، لزم الوديع رد الوديعة إلى ورثته، أداء لحق الأمانة."
(الموسوعة الفقهية، ج:43، ص:79، ط:دار السلاسل)
لہٰذا بھابھی پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ سونا جو دیور نے امانت ان کے پاس رکھوایا تھا، دیور کے انتقال کے بعد وہ یہ ان کے ورثاء کے حوالے کردیں اور ورثاء ان کو آپس میں اپنے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرلیں، بھابھی کے لیے اس امانت پر قبضہ کرنا اور ورثاء کے حوالے نہ کرنا شرعاً ناجائز عمل ہے، جس پر وہ گناہ گار ہوں گی، اس لیے فی الفور اس امانت کو ورثاء کے حوالے کرنا ضروری ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101932
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن