
میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں شوہر، والدہ، تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
وضاحت :مرحومہ کے والد مرحومہ کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے، نیز مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اگر مرحومہ کے ذمہ کو ئی قرض ہو ،تو اس کو کل ترکہ سے ادا کر نے کے بعداور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو ما بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کے باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو 108 حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے شوہر کو 27حصے ، مرحومہ کی والدہ کو 18 حصے، مرحومہ کے ہر بھائی کو 14، 14 حصے اور ان کی ہر بہن کو 7، 7 حصےملیں گے۔
صورتِ تقسیم درج ذیل ہے :
میت :12/ 108
| شوہر | والدہ | بھائی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن |
| 3 | 2 | 7 | |||||
| 27 | 18 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، مرحومہ کی والدہ کو 16.66 فیصد، مرحومہ کے ہر بھائی کو 12.96 فیصد اور مرحومہ کی ہر بہن کو 6.48 فیصد حصہ ملے گا۔
وضاحت :مرحومہ کی تجہیز و تکفین کا خرچہ مرحومہ کے شوہر کے ذمہ ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100944
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن