بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ کے شوہروالدہ تین بھائی اور تین بہنوں میں ترکہ کی شرعی تقسیم


سوال

میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں شوہر، والدہ، تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

وضاحت :مرحومہ کے والد مرحومہ کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے، نیز مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

 

جواب

مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے  کہ سب سے پہلے  اگر مرحومہ کے  ذمہ کو ئی قرض ہو ،تو اس کو کل ترکہ سے ادا کر نے کے بعداور  اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو  ما بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد  مرحومہ کے باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو 108  حصوں میں تقسیم کر کے  مرحومہ کے شوہر کو   27حصے ،  مرحومہ کی والدہ کو 18 حصے، مرحومہ کے ہر بھائی کو  14، 14 حصے اور ان کی ہر بہن کو 7، 7 حصےملیں گے۔

صورتِ تقسیم درج ذیل ہے :

میت :12/ 108

شوہروالدہبھائیبھائیبھائیبہنبہنبہن
327
2718141414777

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے شوہر کو 25 فیصد، مرحومہ کی والدہ کو 16.66 فیصد، مرحومہ کے ہر بھائی کو 12.96 فیصد اور مرحومہ کی ہر بہن کو 6.48  فیصد حصہ ملے گا۔

وضاحت :مرحومہ کی تجہیز و تکفین کا خرچہ مرحومہ کے شوہر کے ذمہ ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں