
1۔ہمارے والد صاحب کو مشکل وقت میں ہماری بہن نے دو تولہ سونا دیا تھا اور کہا تھا کہ جب آپ کے حالات درست ہوں تو یہ سونا مجھے واپس دے دینا اب اس بہن کا انتقال ہو گیا ہے، تو کیا یہ سونا بہن کے ترکہ میں شمار ہوگا؟
2۔بہن کی حیات میں ہی اس کے شوہر نے اس کے زیورات اور دوسرا سامان(جہیز میں دی گئی چیزیں) بغیر اجازت کےبیچ دیا تھا، اب بہن کے انتقال کے بعد کیا ہم یہ سامان بہن کے ترکہ کے طور پر شوہر سے مطالبہ کر سکتے ہیں؟
3۔ بہن کی سات سال کی نمازیں قضا تھیں اور اس نے اس بارے میں کوئی وصیت بھی نہیں کی، تو اگر ہم اس کی طرف سے فدیہ دینا چاہیں تو کتنا فدیہ دینا ہوگا-
1۔صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن نے والد کو مشکل وقت میں دو تولہ سونا دیتے وقت یہ کہا تھا کہ جب حالات بہتر ہوں تو واپس کر دینا، تو یہ شرعاً قرض شمار ہوگا، لہٰذا بہن کے انتقال کے بعد وہ سونا بہن کے ترکہ میں شامل ہوگا، اور اس پر تمام ورثاء کا حق ہے۔
2۔ مرحومہ بہن کے زیورات اور دوسرا سامان خود مرحومہ کی ملکیت تھا، شوہر کو اس میں تصرف کا حق نہیں تھا، اگر بہن کی حیات میں ہی شوہر نے وہ سامان آپ کی بہن بغیر اجازت کےبیچ دیا تھا، تو وہ سامان بہن ہی کی ملکیت شمار ہوگا، اب بہن کے انتقال کے بعد وہ تمام سامان بہن کے ترکہ میں شامل ہے، اور اس پر اس کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہے،،لہٰذا ورثاء اس کا مطالبہ شوہر سے کر سکتے ہیں۔
3۔بہن کی سات سال کی قضا نمازیں چوں کہ اس نے اپنی زندگی میں ادا نہیں کیں اور اس بارے میں کوئی وصیت بھی نہیں کی، اس لیے ورثاء پر لازم نہیں کہ وہ فدیہ ادا کریں، البتہ اگرتمام ورثاءعاقل ،بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے اس کی طرف سے فدیہ ادا کریں تو یہ درست ہے، اورتو میت پر بہت بڑا احسان ہوگا، ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قیمت ہے، اور سات سال کی تمام نمازوں کا حساب لگا کر فدیہ دیا جا سکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة) والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث. قال محمد بن الفضل: من تناول مال غيره بغير إذنه ثم رد البدل على وارثه بعد موته برئ عن الدين وبقي حق الميت لظلمه إياه، ولا يبرأ عنه إلا بالتوبة والاستغفار والدعاء له)."
(کتاب اللقطۃ، مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم جھل اربابھا، ج:4، ص:283، ط:سعید)
فتاوى ہندیۃ میں ہے:
"فإن لم يوص وتبرع عنه الورثة جاز، ولا يلزمهم من غير إيصاء كذا في فتاوى قاضي خان. ولا يصوم عنه الولي كذا في التبيين."
(كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء دون الكفارة،ج:1:ص،207، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102023
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن