بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مریضوں کا ہسپتال کے مصلیٰ میں جمعہ ادا کرنا


سوال

ایک ہسپتال ہے، جس میں ایک چھوٹا سا مصلّیٰ ہے، جس مین تین نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں، اس ہسپتال میں صرف گردوں کا علاج کیا جاتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ  مریض حضرات اسی مصلیٰ میں جمعہ کی نماز پڑھ سکتے ہیں اگر ان کو باہر جانے میں کوئی دشواری ہو ؟ یا دشواری اور رکاوٹ نہ ہو  تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا، جب کہ جامع مسجد ہسپتال کے بالکل سامنے ہے اور وہاں جمعہ ہوتا ہے؟

نیز اگر ان مریضوں میں سے کسی کا ڈائلیسز چل رہا ہو یا ختم یا شروع  ہورہا ہو ،جمعہ کی نماز کے دوران ہی تو اس کے لیے جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

 جمعہ کا قیام شعائرِ دین میں سے ہے، اس میں مسلمانوں  کا اجتماع  مطلوب ہے اور اس سے مسلمان کی  شان  و شوکت کا اظہار بھی مقصود ہے،  مسلمانوں کا جتنا بڑا مجمع جمع ہوکر خشوع و خضوع سے عبادت کرتاہے اور دعا کرتاہے، اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں بھی قبول فرماتے ہیں اور اپنی رحمت بھی نازل فرماتے ہیں، شیطان اس سے مزید رسوا ہوتاہے،لہذا جمعہ کی نماز جامع مسجد میں جاکر ادا کرنی چاہیے، کسی واقعی  عذر  کے بغیر  مساجد کے علاوہ عارضی مصلے یا ہوٹل وغیرہ جمعہ ادا کرنا مکروہ ہے، البتہ  جمعہ کی نماز  درست ہونے کے لیے  مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے، شہر ، فنائے شہر   یا بڑی بستی میں جہاں کہیں مسجد کی طرح نماز پڑھنے کی عام اجازت ہو وہاں جمعہ کی نماز پڑھنے سے جمعہ ادا ہوجاتا ہے، تاہم اس میں مسجد  کا ثواب نہیں ملتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر  ہسپتال میں ایڈمٹ مریضوں کو ہسپتال کی طرف سے باہر جاکر مسجد میں جمعہ پڑھنے کی اجازت ہو یا چیک اپ کے لیے آئے ہوئے مریضوں کو مسجد جاکر جمعہ کی نماز ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو تو جامع مسجد میں  جمعہ کی نماز ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، اور اگر  ہسپتال کے  مریضوں کو باہر جاکر جمعہ کی اجازت نہ ہو یا کوئی شخص مرض  یا عذر کی وجہ سے مسجد جاکر جمعہ کی نماز ادا  نہ کرسکتا ہو تو  وہ ہسپتال میں بنے مصلیٰ میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتا ہے۔

نیز جن مریضوں کا ڈائلیسیز چل رہا ہے   تو اگر ڈائلیسز مکمل ہونے کے بعد کسی  جگہ جمعہ کی نماز ادا کرنا ممکن  ہو تو وہ جمعہ ادا کرلیں ورنہ   اپنی  ظہر کی چار رکعت نماز ادا کرلیں، اسی طرح جن مریضوں کا ڈائلیسز شروع ہونے والا ہے، اگر  جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے جانے سے ان کی وقت نکل جانے کا   اور بعد میں دشواری کا اندیشہ ہو تو وہ کوشش کریں کہ پہلے جمعہ کہیں ادا کرکے آئیں یا ڈائلیسز ختم ہونے کے بعد وقت ہو اور کہیں جمعہ ملنا ممکن ہو تو جمعہ کی نماز ادا کرلیں، ورنہ پھر ڈائلیسز سے فارغ ہوکر اپنی ظہر کی چار رکعت نماز ادا کرلیں۔

حلبی کبیری میں ہے:

"وفي الفتاوی الغیاثیة: لوصلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة  لها قری وفیها وال وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا … والمسجد الجامع لیس بشرط، ولهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر."

(صل في صلاة الجمعة، ص:551، ف ط: سھیل اکیڈمی)

فتاوی شامی میں ہے :

"ولو فتحه وأذن للناس بالدخول جاز وكره.

(قوله:  وكره) لأنه لم يقض حق المسجد الجامع زيلعي ودرر."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 152، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101543

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں