
ہمارےعرف میں مختلف مواقع پرقرآن خونی کارواج ہےجوکہ در ج ذیل ہے:
1۔مریض کی صحت یابی کےلیےقرآن خوانی اورپھربطورصدقہ کھانےکاانتظام کیاجانا۔
2۔کسی کےمرنےکےبعدغسل اورتدفین سےپہلےمحلےکےبچےاورعورتیں جمع ہوجاتےہیں اورپورے قرآن مجیدکاختم یا کسی جزء کاختم کرتےہیں۔
3۔تیسرےاورچوتھےدن پھرمحلےوالےمیت کےگھرجمع ہوکرقرآن خوانی کرتےہیں اس کےبعدورثاءمیت کی طرف سےصدقہ کےطورپرکھانابھی پکایاجاتاہےاوردعاکےبعدلوگ کھاناکھاکراپنےگھروں کوواپس لوٹ جاتےہیں۔
4۔میت کےورثاءایک سال بعدمیت کےایصال ثواب کےلیےپھرسےقرآن خوانی کااہتمام کرتےہیں ا ورکھانابھی کھلاتےہیں ۔
5۔عقیقہ کےوقت برکت کےطورپر،اسی طرح نئےگھریانئی دکان کےافتتاح کےلیےقرآن خوانی کی جاتی ہے،اورپھردعاکےبعدکھانے کاانتظام بھی کیاجاتاہے۔
اب سوال یہ ہےکہ کیاقرآن خوانی کی مذکورہ صورتیں جائزہیں یانہیں؟
1۔مریض کی صحت یابی کےلیےقرآن پاک پڑھنادرست ہے،اسی طرح بطورصدقہ کھاناکھلانابھی درست ہے۔
2۔میت کوغسل دینےسےپہلےاس کےپاس قرآن پاک کےختم یاکسی خاص سورت کےپڑھنےمیں تفصیل ہےکہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآنِ مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے زبانی تلاوت کی جائے، اور اگر میت کو کپڑے سےڈھانپا نہ گیا ہو تو پھر غسل دینے سے پہلے میت کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے، البتہ تسبیح وغیرہ پڑھی جاسکتی ہے۔
اور میت کو غسل دینے کے بعد خواہ میت کے قریب تلاوت کی جائے یا دور ، بہرصورت جائز ہے، نیز میت جس کمرے میں ہو اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت کرنا بھی بلاکراہت جائز ہے۔البتہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ بچوں ، عورتوں کو جمع کرنا شریعت میں ثابت نہیں ہے ۔ انفرادی طور پر اگر کوئی تلاوت کرتا ہے تو یہ جائز ہوگا۔
4۔3۔میت کےایصال ثواب کےلیےبغیردن وتاریخ متعین کئےبلامعاوضہ قرآن کی تلاوت بلاشبہ باعث اجروثواب ہے،مگراس کےلئےسوم،دہم ،چہلم وغیرہ کےعنوان سےلوگوں کوبلانااورقرآن خوانی کرنابدعات اورقابل ترک ہیں، اس میں کسی قسم کی اجرت دینایالینادرست نہیں، یہ ایصال ثواب ہےاورایصال ثواب کرکےاجرت لینادرست نہیں اوراجرت دےکرقرآن خوانی کروانےکاثواب بھی میت کونہیں پہنچتا۔
5۔گر قرآن خوانی کو عقیقہ کا شرعی جزو سمجھا جائے تو یہ بے اصل عمل ہے، اس کا ترک ضروری ہے۔ البتہ اگر قرآن خوانی کو محض برکت کے لیے کیا جائے، عقیقہ کا حصہ نہ سمجھا جائے، اس کا التزام نہ کیا جائے اور نہ کرنے والوں کو برا نہ سمجھا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
نیزنئی دکان یامکان کےافتتاح کےوقت بطورحصول برکت قرآن شریف کاپڑھنا،پڑھوانادرست ہے،اوراس میں کھاناکھلانایابطوراجرت نقدرقم دینابھی جائزہے،کیونکہ یہ ایصال ثواب نہیں بلکہ دنیوی ترقی اورخیروبرکت کےلئےہے۔
تفسیرمظہری میں ہے:
"وقيل من للتبعيض والشفاء الشفاء من الأمراض الظاهرة والمراد من بعض القران ما هو يشفى السقيم كالفاتحة ونحوها- وهو المعنى بقوله صلى الله عليه وسلم عليكم بالشفاءين العسل والقران."
(سورة الإسراء، آیت: 82، ج: 5، ص: 483، ط: رشدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ويقرأ عنده القرآن إلى أن يرفع إلى الغسل، كما في القهستاني معزياً للنتف. قلت: وليس في النتف إلى الغسل بل إلى أن يرفع فقط، وفسره في البحر برفع الروح. وعبارة الزيلعي وغيره: تكره القراءة عنده حتى يغسل، وعلله الشرنبلالي في إمداد الفتاح؛ تنزيهاً للقرآن عن نجاسة الميت لتنجسه بالموت، قيل: نجاسة خبث، وقيل: حدث، وعليه فينبغي جوازها كقراءة المحدث.
(قوله: كقراءة المحدث) …… [تنبيه] الحاصل أن الموت إن كان حدثاً فلا كراهة في القراءة عنده، وإن كان نجساً كرهت، وعلى الأول يحمل ما في النتف، وعلى الثاني ما في الزيلعي وغيره. وذكر ط أن محل الكراهة إذا كان قريباً منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة. اهـ.قلت: والظاهر أن هذا أيضاً إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه ؛لأنه لو صلى فوق نجاسة على حائل من ثوب أو حصير لايكره فيما يظهر، فكذا إذا قرأ عند نجاسة مستورة، وكذا ينبغي تقييد الكراهة بما إذا قرأ جهراً، قال في الخانية: وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهراً لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولايرفع صوته فلا بأس به ولا بأس بالتسبيح والتهليل وإن رفع صوته."
( کتاب الصلوٰۃ، باب صلاۃ الجنازۃ،2 / 193، ط: سعید)
وفیه أیضاً:
"وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 240/2، ط: سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"الوليمة طعام العرس والوكيرة طعام البناء والخرس طعام الولادة وما تطعم النفساء نفسها خرسة وطعام الختان إعذار وطعام القادم من سفره نقيعة وكل طعام صنع لدعوة مأدبة ومادية ."
(كتاب الإجارة، ج: 7، ص: 302، ط: دارالكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه."
(كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، ج: 2، ص: 120، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100918
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن