
میرے والد صاحب کینسر(اسٹیج 4) کے مریض ہیں، ان کا حال ہی میں آپریشن ہوا ہے، کیوں کہ پھیپھڑوں کے گرد پانی جمع ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی، اس کے علاوہ ان کی طبی حالت کچھ ایسی ہے کہ وہ خود سے پیشاب نہیں کر سکتے، انھیں ہر وقت کسی کی مدد کی ضرورت رہتی ہے، بعض اوقات جب زیادہ کمزوری ہوتی ہے تو وہ بوتل میں پیشاب کرتے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس حالت میں کیا میرے والد صاحب عمرہ کر سکتے ہیں؟ اگر وہ دورانِ طواف یا سعی میں پیشاب کی حاجت محسوس کریں تو کیا کیا جائے؟ کیا اس کے لیے پیمپر کا استعمال جائز حل ہے؛ تاکہ ان کی عبادت میں خلل نہ آئے اور پاکیزگی کے مسائل بھی نہ ہوں؟برائے کرم اس مسئلہ میں ہماری صحیح راہ نمائی فرما دیں؛ تاکہ ہم عمرے کے بارے میں درست فیصلہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
واضح رہے کہ طواف کے لیے وضو ضروری ہے، بغیر وضو کے طواف کرنا جائز ہی نہیں، البتہ سعی کے لیے وضو ضروری نہیں، سعی بغیر وضو کے بھی ادا ہوسکتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب کے لیے مذکورہ عذر میں عمرہ کے دوران پیمپر(ڈائپر جو مشین سے بنتے ہیں، سلے ہوئے نہیں ہوتے، وہ پیمپر جو کپڑے سے بنتے ہیں اور سلے ہوئے ہوتے ہیں وہ پہننے کی اجازت نہیں) پہننے کی اجازت تو ہے، لیکن یہ ایسا شرعی عذر نہیں کہ جس کی بناء پر دوران طواف وضو ٹوٹنے کی صورت میں طواف مکمل کرنے کی اجازت ہو، لہذا دوران طواف جب پیشاب کی حاجت پیش آئے تو طواف اسی جگہ روک کر استنجاء وغیرہ سے فارغ ہوکر وضو کرکے وہیں سے طواف پورا کرلیں، تاہم بہتر یہی ہے کہ طواف دوبارہ شروع سے کرلیں، اور دوران سعی حاجت ہو تب بھی استنجاء وغیرہ کرکے سعی پوری کرلیں؛ کیوں کہ سعی کےلیےباوضو ہونا مستحب ہے، ضروری نہیں۔
تبيين الحقائق میں ہے:
"(وشد الهميان في وسطه) وقال مالك لا يشد إذا كانت فيه نفقة غيره، وإن شد افتدى لما روي عن عائشة رضي الله عنها «أوثقي عليك نفقتك بما شئت حين سألت عنه؛» ولأنه لا ضرورة إليه فلا يباح بخلاف ما إذا كانت فيه نفقته ولنا أن ابن عباس كان يطلقه من غير قيد ولا هذا ليس بلبس مخيط ولا في معناه فلا يكره كما إذا كان فيه نفقة نفسه، وكذا شد المنطقة والسيف والسلاح والتختم بالخاتم كل ذلك لا يكره وعن أبي يوسف أنه كره شد المنطقة بالإبريسم".
(كتاب الحج، باب الإحرام، ج:2، ص:14، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو خرج منه أو من السعي إلى جنازة أو مكتوبة أو تجديد وضوء ثم عاد بنى".
(قوله بنى) أي على ما كان طافه، ولا يلزمه الاستقبال فتح. قلت: ظاهره أنه لو استقبل لا شيء عليه فلا يلزمه إتمام الأول لأن هذا الاستقبال للإكمال بالموالاة بين الأشواط".
(كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص:497، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101303
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن