
الف۔ شریعت میں مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، لیکن ہمارے ہاں شادی کے موقع پر مرد کو ہدیہ کے طور پر سونے کی انگوٹھی دی جاتی ہے، جو وہ کچھ دیر پہنتا ہے اور پھر اپنی بیوی یا والدہ کو ہدیہ کر دیتا ہے۔ میں سنار ہوں تو ہمارے لیے ایسے موقع پر مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی بنانے کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح چھوٹے لڑکوں کے لیے سونے کی انگوٹھی بنانے کا کیا حکم ہے؟
ب۔ اگر سونے کی خریداری میں ایک تولہ کی قیمت طے کر کے اسے ادھار پر دیا جائے، یعنی خریدار کہے کہ تولہ کے پانچ لاکھ آپ کو ایک ہفتہ بعد دوں گا، اور پھر دکاندار کہے کہ ایک ہفتہ بعد ادھار کی وجہ سے پانچ لاکھ دس ہزار دینے ہوں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
ج۔ ہم سنار یا صراف سے 21 کیریٹ کا سونا لیتے ہیں، لیکن وہ 21 کیریٹ کا کہہ کر 20 کیریٹ کا دیتے ہیں، اور سونے پر بھی 21 کیریٹ لکھا ہوتا ہے۔ تو ہم آگے خریدار کو کیا کہہ کر بیچیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ یہ اصل 21 کیریٹ نہیں ہے۔ اسی طرح، اگر ہم خریدار کو یہ کہیں کہ اگر آپ واپس کریں تو ہم بیس کیریٹ کے حساب سے واپس لیں گے، تو اس کیا حکم ہے؟
د۔ ہم صرّاف سے فون پر سونے کا ریٹ فکس کراتے ہیں، مثلاً پانچ لاکھ روپے پر ریٹ طے ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد دو تین دن بعد جا کر ہم اس سے اسی طے شدہ ریٹ پر سونا لے لیتے ہیں۔ اس معاملے میں یہ صورت بھی پیش آتی ہے کہ اگر اس دوران ریٹ بڑھ جائے تو ہم بغیر قبضہ کیے فون پر ہی اسے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سونا بیچ دے، وہ سونا فروخت کر دیتا ہے اور ہم نفع حاصل کر لیتے ہیں۔ اس صورت میں وہ ہمارا فکس کرایا ہوا سونا آگے بھی بیچ دیتا ہے یا خود اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اسی طرح اگر ریٹ کم ہو جائے تو وہ ہمیں کہتا ہے کہ یہ سونا مجھے فروخت کر دو،اگر ہم اس پر راضی ہوں تو فروخت کر دیتے ہیں اور نقصان برداشت کرتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ جائز ہے؟
واضح رہے کہ ریٹ فکس کراتے وقت ہم رقم ادا کر دیتے ہیں۔
الف۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالغ اور نابالغ کی تفریق کیے بغیر مطلقاً مذکَّر (مرد )کے حق میں سونے کو حرام قرار دیا ہے، اور مرد کے لیے سونا پہننا اور پہنانا دونوں ناجائز ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص مرد کو پہنانے کی صراحت کے ساتھ انگوٹھی بنوارہا ہو تو اسے انگوٹھی بناکر دینا مکروہ ہوگا۔
ب۔ سونے چاندی کا آپس میں تبادلہ کرنا، یا سونے چاندی کا عام کرنسی سے تبادلہ کرنا شرعاً بیعِ صرف کہلاتا ہے، اور بیعِ صرف کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ دونوں بدلین پر مجلس ہی میں قبضہ پایا جائے، لہٰذا سونے چاندی کو نوٹوں کے بدلے بیعِ صرف ہونے کی وجہ سے ادھار پر فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں سونے کی ادھار پر فروختگی جائز نہیں ہے۔
ج۔ صورتِ مسئولہ میں اکیس کیریٹ کے سونے میں اکیس کیریٹ سونا نہ ہونا یہ دھوکہ ہے، اس لیے لازم ہے کہ فروخت سے قبل خریدار کو صراحت کے ساتھ بتا دیاجائے کہ یہ حقیقتاً اکیس کیریٹ نہیں بلکہ اتنے کیریٹ کا ہے۔ اگر اس وضاحت کے بعد خریدار اس سونے کو خریدنے پر رضامند ہو جائے تو اس کا بیچنا شرعاً جائز ہوگا، لیکن 20 کیرٹ کے سونے کو 21 کیرٹ لکھنا دھوکہ اور جھوٹ ہونے کے وجہ سے ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ سخت گناہ بھی ہو گا،اور ایک کیرٹ کی رقم واپس کرنا بھی لازم ہو گا۔
د۔ مذکورہ طریقۂ کار بھی ناجائز ہے، کیونکہ سونے کی خرید و فروخت میں بدلین یعنی سونا اور اس کے عوض کا تبادلہ مجلسِ عقد ہی میں ہونا شرعاً ضروری ہے، نیز خریدے ہوئے سونے کو فروخت کرنے سے قبل اس پر خود قبضہ کرنا بھی شرعاً لازم ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بیع قبل القبض ہوگی،لہذا خریدار اگرچہ رقم ادا کردے لیکن سونے پر خود قبضہ نہ کرنے کی وجہ سے یہ معاملہ کرنا جائز نہیں ہے ۔ اور اس صورت میں حاصل ہونے والا نفع بھی حلال نہیں ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافا أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ۔"
(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:392،ط:سعید)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"وما يكره للرجال لبسه يكره للغلمان والصبيان؛ لأن النص حرم الذهب والحرير على ذكور أمته بلا قيد البلوغ والحرية، والأثم على من ألبسهم؛ لأنا أمرنا بحفظهم، كذا في التمرتاشي. "
(كتاب الكراهية، الباب التاسع في اللبس ما يكره من ذلك وما لا يكره، ج : 5، ص : 331، ط : دار الفكر )
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع".
(كتاب البيوع،باب بيع الفاسد، ج : 5، ص : 69، ط : سعید)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"(وهو بيع جنس الأثمان بعضه ببعض، ويستوي في ذلك مضروبهما ومصوغهما وتبرهما، فإن باع فضة بفضة أو ذهبا بذهب لم يجز إلا مثلا بمثل يدا بيد) والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام: «الذهب بالذهب، مثلا بمثل، يدا بيد، والفضل ربا، والفضة بالفضة، مثلا بمثل، يدا بيد، والفضل ربا» ولقول عمر رضي الله عنه: وإن استنظرك إلى وراء السارية فلا تنظره. ولأنه لا بد من قبض أحد العوضين ليخرج من بيع الكالئ بالكالئ، وليس أحدهما أولى من الآخر فيقبضان، ولأنه إذا قبض أحدهما يجب قبض الآخر تحقيقا للمساواة، والمعتبر في ذلك المفارقة بالأبدان حتى لو تصارفا وسارا عن مجلسهما كثيرا ثم تقابضا جاز ما لم يفترقا."
(كتاب البيوع، باب الصرف، ج : 2، ص : 39، ط : دار الكتب العلمية)
تبيين الحقائق میں ہے:
"لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله عليه السلام «لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له» رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه «ومر عليه السلام برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول فقال من غشنا فليس منا» رواه مسلم وغيره."
(کتاب البیوع، باب خیار العیب، ج : 4، ص : 31، ط : المطبعة الكبرى الأميرية)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"(ولا يجوز بيع المنقول قبل القبض) لأنه عليه الصلاة والسلام «نهى عن بيع ما لم يقبض»، ولأنه عساه يهلك فينفسخ البيع فيكون غررا."
(كتاب البيوع، شروط صحة البيع، ج : 2، ص : 8، ط : دار الكتب العلمية)
فتاویٰ مفتی محمود میں ہے:
"سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ آج مثلاً سونے کا حاضر بھاؤ 600 روپے فی تولہ ہے، ایک سنار ہم سے 10 تولہ سونا مانگتاہے، ایک ماہ کے ادھار پر ہم ا س سے کہتے ہیں کہ میں تو640 روپے فی تولہ دوں گا۔ وہ کہتا ہے کہ دے دو، رقم ایک ماہ میں ادا کردوں گا۔ ہم اس کو سونا دیتے ہیں تو عرض یہ ہے کہ آج کے بھاؤ سے ہمیں 10 تولہ سونے میں 40 روپے بچت ہوتی ہے، کیا یہ ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:یہ تو بیع صرف ہے، اس میں اُدھار جائز نہیں۔بیع سابق صحیح نہیں ہے، فاسد ہے، اس میں جو نفع ہوا ہے خیرات کردیا جائے۔"
(کتاب الربوا، سود کا بیان ، ج : 8، ص : 401، ط : جمعیۃ پبلیکیشنز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100723
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن