بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1448ھ 19 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد پراپنی والدہ کا نفقہ کب لازم ہے


سوال

 زید کی والدہ بیوہ ہے، لیکن اپنے نام کے گھر میں مقیم ہے، جب کہ زید اپنے گھر میں مقیم ہے، زید کی والدہ کا گزارا کچھ اپنی انویسٹمنٹ سے ہوتا ہے اور کچھ ذمہ داریاں زید نے لی ہوئی ہیں، مثلا بجلی کا بل، گیس کا بل، مینٹیننس، کھانے پینے کے اخراجات وغیرہ ،اسی طرح یہی ذمہ داریاں زید پراس کے اپنے گھر کی بھی ہیں، زید کرائے کے گھر میں رہتا ہے، جب کہ والدہ کا اپنا ذاتی گھر موجود ہے، جو کہ ان کے اپنے نام پر ہے، ایسی صورت میں اب زید کے حالات اس قابل نہیں کہ وہ دو گھروں کا خرچہ اٹھا سکے، لیکن والدہ کے گھر میں بھی گنجائش نہیں کہ بیوی بچے رہ سکیں، ایسی صورت میں زید کس کو ترجیح دے؟ والدہ کے گھر کے مینٹیننس اور دیگر اخراجات پورے کرے یا یا اپنے گھر کے اخراجات کو ترجیح دے؟

یہ بات واضح رہے کہ زید اکلوتا بیٹا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام نے والدین کےساتھ اچھا برتاؤکرنےکا   حکم دیاہےاور ان پر خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ چناں چہ ارشادِ ربانی ہے :

"وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا." (النساء، 36)

ترجمہ: 

" اور تم اللہ تعالی کی عبادت اختیار کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرواور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو" 

 اس آیت میں اللہ تعالی نے سب سے پہلے اپنا حق ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا،اس کے بعد والدین کا حق ذکر فرمایا کہ اُن سے اچھا برتاؤ کرنا، پھر اس کے بعد رشتہ داروں، یتیموں،مسکینوں،مسافروں اور پڑوسیوں وغیرہ کا حق ذکر فرمایا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی  کے حق کے بعد سب سے پہلا حق والدین کا ہے،یعنی حقوق العباد میں سب سے مقدم والدین کا حق ہے۔

اور سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا." ( الإسراء، 23)

ترجمہ:

"اور تیرے رب نے حکم کردیاہےکہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیاکرواگرتیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں بڑھاپےکو پہنچ جاویں سو ان کو کبھی ہوں مت کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا"

لہذا صورت مسئولہ میں اگر والدہ اپنی انویسٹمنٹ کی آمدنی سے اپنی تمام ضروریات کو پورا کرسکتی ہیں تو زید پر اپنی والدہ کا نفقہ لازم نہیں ہوگا اور زید صرف اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنا لازم ہوگا، لیکن اگر والدہ کی آمدنی سے والدہ کی تمام تر ضروریات پوری  نہیں ہوتی ہیں، تو زید پر اپنی  استطاعت کے مطابق والدہ کی ضروریات پورا کرنا لازم ہوگا، زید کو چاہیے کہ قناعت سے کام لیتے ہوئے اپنے تمام تر اخرجات پورے کرے،  حدیث شریف میں آتا ہے ، حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"کسی مسکین کو صدقہ دینا ایک صدقہ ہے (یعنی اس کو دینے میں صرف صدقہ ہی کا ثواب ملتا ہے)مگر اپنے اقرباء میں سے کسی کو صدقہ دینا دوہرے ثواب کا باعث ہے،ایک ثواب تو صدقہ کا اور دوسرا ثواب صلہ رحمی(رشتہ داروں سے حسن سلوک )کا ہوتا ہے۔"

لہذا زید اپنی والدہ اور بیوی بچوں کی خدمت کے اس معاملہ میں اللہ تعالی سے خوب ثواب کی امید رکھے،والدہ کی حیات کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان کی خدمت میں خوب کوشش کرے، نمازوں کا اہتمام کرے اور استغفار کی کثرت کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ اللہ رب العزت تمام تر اخراجات میں سہولت والا معاملہ فرمادیں گے۔

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ". رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي".

(کتاب الآداب، باب أفضل الصدقة، ج: 1ص: 604، ط: المکتب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة".

(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ، ج: 2، ص: 346، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح... (النفقة لأصوله)... (الفقراء) ولو قادرين على الكسب.

وفي الرد: قوله الفقراء) قيد به؛ لأنه لا تجب نفقة الموسر إلا الزوجة (قوله ولو قادرين على الكسب) جزم به في الهداية، فالمعتبر في إيجاب نفقة الوالدين مجرد الفقر."

(كتاب الطلاق، ‌‌باب النفقة، ج: 3، ص: 621۔623، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء... وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره... وأطلق في الابن ولم يقيده بالغنى مع أنه مقيد به لما في شرح الطحاوي ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، نفقة الأبوين والأجداد والجدات، ج: 4، ص: 349،348، ط: دار الكتب العلمية)

ہدایہ میں ہے:

"وعلی الرجل المرسر أن ینفق علی أبویه وأجدادہ وجداته إذا کانوا فقراء وإن خالفوہ فی الدین."

(باب النفقة، ج: 2، ص: 440، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102510

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں