بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد و زن ایک دوسرے کے لیے سکون و راحت کا ذریعہ ہیں


سوال

جس طرح قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ عورت کو مرد کے سکون کے لئے بنایا گیا ہے تو کیا مرد کو بھی عورت کے سکون کے لئے بنایا گیا ہے؟

جواب

اللہ تعالی نے انسانیت کو پیدا فرماکر جہاں دیگر بہت سے احسانات فرمائے،اسی طرح ایک عظیم احسان و انعام یہ فرمایا کہ مرد کے لیے عورت کو ،اور عورت کے لیے مرد کو پیدا فرمایا،اوراس  طرح جوڑے بنانے کا مقصد یہ ذکر فرمایا کہ تاکہ نکاح کی عبادت کے ذریعے تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو،اور یہ  سکون کاحصول جانبین سے ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زوجین کوایک دوسرے کے  لباس سے تعبیر فرمایا ہےکہ جس طرح لباس کے ذریعے سے سکون حاصل ہوتا ہے ،اسی طرح زوجین ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

"﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴾" (سورة الروم،الآية:21)         

ترجمہ:اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائيں تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے ہیں ۔(از بیان القرآن)

اسی طرح ارشاد فرمایا:

"﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ﴾"         (سورة البقرة،الآية:187)

ترجمہ:وہ پوشاک ہیں تمہاری،اور تم پوشاک ہو ان کی (از تفسیر عثمانی)

تفسیر ابن کمال پاشا میں ہے:

"{لتسكنوا إليها}: لتميلوا إليها، يقال: سكن إليه، إذا مال إليه، ومنه: السكن، وهو الألف المسكون إليه، وذلك لأن الألف إنما يكون بين المتجانسين؛ لأن الجنسية علة الضم، والاختلاف سبب التنافر.

{وجعل بينكم}: بين الرجال والنساء {مودة ورحمة}: التواد والتراحم بعصمة الزواج بعد أن لم يكن بينهما سابقة معرفة ولا قرابة توجب ذلك؛ لينتظم أمر النسب والتربية والإرث، أو بين أفراد الجنس؛ لابتناء أمر المعاش على التعاون المحوج إلى التواد والتراحم."

(سورة الروم،ج:8،ص:129،ط:مكتبة الارشاد)

تفسیر طبری میں ہے:

"عن عمرو بن دينار، عن ابن عباس قوله: {هن لباس لكم وأنتم لباس لهن} قال: هن سكن لكم، وأنتم سكن لهن".

(القول في تاويل في قوله جل ذکره :(هن لباس لكم وأنتم لباس لهن) ،ج:3،ص:233،ط:دار هجر)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله: {هن لباس لكم وأنتم لباس لهن} قال ابن عباس ومجاهد وسعيد بن جبير والحسن وقتادة والسدي ومقاتل بن حيان: يعني هن سكن لكم وأنتم سكن لهن."

(ج:2،ص:67،ط:دار ابن الجوزی)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101877

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں