
اگر جماعت میں دو مرد اور ایک عورت موجود ہوں تو نماز کی صف کس طرح بنائی جائے؟ مرد اور عورت کی صف کی ترتیب کیا ہوگی؟
مردوں کو مسجد میں اور عورتوں کو گھر میں نماز ادا کرنی چاہیے، اگرکسی وجہ سے مسجد میں جماعت ہوجائے یا مسجد میں نماز کا موقع نہ مل سکے تو ایسی صورت میں مرد کو چاہیے کہ یا تو دوسری مسجد کی جماعت میں شامل ہوجائے، ورنہ تنہا نماز ادا کرنے کے بجائے اس کے لیے گھر والوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نمازپڑھنا افضل ہے، البتہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ پچھلی صف میں کھڑی ہو، امام کے ساتھ دائیں یا بائیں کھڑی نہ ہو۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں ایک مرد امام بنے، دوسرا مرد اس کے دائیں جانب قدرے پیچھے کھڑا ہو، اور عورت تنہا پچھلی صف میں کھڑی ہو۔
سنن النسائي ميں ہے:
" أن قزعة مولى لعبد القيس أخبره أنه سمع عكرمة قال: قال ابن عباس: «صليت إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وعائشة خلفنا تصلي معنا، وأنا إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم أصلي معه".
(كتاب المساجد، ج:1، ص:443، ط:مؤسسة الرسالة)
ترجمہ: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے برابر میں نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے حضرت عائشہ صدیقہ تھیں وہ بھی ہمارے ہم راہ نماز میں شریک تھیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولو اجتمع الرجال والصبيان والخناثى والإناث والصبيات المراهقات يقوم الرجال أقصى ما يلي الإمام ثم الصبيان ثم الخناثى ثم الإناث ثم الصبيات المراهقات. كذا في شرح الطحاوي".
(کتاب الصلاۃ، باب خامس، فصل خامس، ج:1، ص:89، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100115
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن