
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے غصے میں یہ کہے کہ "میں مر کے بھی تمہارے قریب نہ آؤں" تو اس کا کیا حکم ہے ؟
مذکورہ الفاظ بیوی کو ڈرانے اور دھمکانے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ،اگر کسی نے بغیر قسم کے الفاظ کےیہ استعمال کیےتواس سے اس کےنکاح پرکوئی اثرنہیں پڑے گا،شرعاً یہ الفاظ لغو شمار ہوں گے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الإيلاء منع النفس عن قربان المنكوحة منعا مؤكدا باليمين بالله أو غيره من طلاق أو عتاق أو صوم أو حج أو نحو ذلك مطلقا أو مؤقتا بأربعة أشهر في الحرائر وشهر في الإماء من غير أن يتخللها وقت يمكنه قربانها فيه من غير حنث كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الطلاق، الباب السابع فی الایلاء، ج:1، ص:476، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100863
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن