بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتول کی غلطی کی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہو تو دیت کا حکم


سوال

میرا بیٹا اپنی گاڑی پر سپلائی کا کام کرتا ہے،ایک دفعہ لیاری ایکسپریس وے پر سیدھے ہاتھ کی آخری لائن پر 30 سے 40 کی رفتار سے  جا رہا تھا،ٹول پلازہ  قریب تھا،رفتار کم تھی،تو ایک موٹر سائیکل سوار ،(جو کہ پولیس والا تھا)اس سے تھوڑا دور اس کو اوور ٹیک کرنے کے لیے رکا ہوا تھا،اس کے ساتھ اور بھی موٹر سائیکل سوار تھے،میرے بیٹے  نے تھوڑا دور  سے اس کو دیکھ کر ہارن دیا ، تاکہ  وہ وہیں رُک   جائے اور گاڑی کے سامنے نہ آئے، مگر جیسے ہی میرا بیٹا  اس کے قریب ہوا ، اس نے جلد بازی میں اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی ،اور اچانک سامنے آکر بریک لگادی،اور  ایکسیڈنٹ ہو گیا،(حالانکہ لیاری ایکسپریس وے پر موٹر سائیکل کا آنا جانا ممنوع ہے)،میرے بیٹے نے بہت کوشش کی کہ زیادہ نقصان نہ ہو، اور اپنی گاڑی کو   دائیں جانب ہی دیوار کی طرف  مزید موڑ دیا، مگر موٹر سائیکل سوار گاڑی کے درمیان سے بچ کر بائیں جانب سے ٹکراگیااور زخمی ہو گیا،اُس کا سر پھٹ چکا تھا،میرے بیٹا رُکا اور  اس کو پانی  پلایا،جب لوگ جمع ہوگئے،تو وہ وہاں سے آگے گیا، اور پولیس کو اطلاع دی کہ پیچھے ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ،جاکر دیکھ لیں، پھر جب  پولیس کی گاڑی  اُس طرف چلی گئی ، تو میرا بیٹا وہاں سے چلا گیا۔

پھر اس واقعے کے چار دن بعد اس شخص کا انتقال ہو گیا،اس کی ایک بیوہ اور ایک بچہ ہے ،ہم نے چاہا کہ ان سے صلح صفائی ہو جائے ،ہم ان کے گھر بھی گئے لیکن ان کا رویہ ایسا ہے، کہ بس جلدی ہی ہمیں وہ شخص (میرا بیٹا) مل جائے اور ہم اسے پکڑ کر سزا دیں۔

وضاحت :

ایف آئی آر میں یہ درج ہے کہ کسی نامعلوم گاڑی والے سے ٹکر ماردی ہے۔
اور   مقتول کے گھر والوں کا یہ مطالبہ ہے   کہ اس کی ایک بیوہ اور بچی ہے،بیوہ تو کہیں اور شادی کرلے گی، البتہ اس بچی کے لیے ہمیں 50 لاکھ روپے آپ نے دینے ہونگے۔ 

اور مقتول کے گھر والوں کا یہ بھی کہنا ہے ، کہ تم اس کو ہسپتال لیکر نہیں گئے ،وہ آٹھ گھنٹے ادھر اُ دھر بھٹکتا رہا ، لہذا  تم مجرم ہو ،اور ہمیں اس بچی کے لیے 50لاکھ روپے دو۔ 

اب اس سلسلے میں ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا غلطی ہمارے بیٹے کی تھی یا دوسرے شخص کی؟اگر ہمارا بیٹا مجرم ہے تو ہمارے ذمہ  دیت لازم ہوگی یا نہیں ؟اگر لازم ہوگی تو کتنی لازم ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعتاً درست ہے اور سائل کا بیٹا ٹریفک کے قوانین کی پوری پابندی کرتے ہوئے گاڑی چلارہا تھا ، موٹر سائیکل سوار غلط جانب سے  اچانک آتے  ہوئے گاڑی کے سامنے آکر  ٹکراگیا ،  گاڑی کی رفتار معتدل تھی، اور وہ   ڈرائیورکے پوری  طرح قابو میں تھی، اس کے  باوجود حادثہ پیش آیا ، تو ڈرائیور     پر یا اس کے عاقلہ  پر کوئی تاوان اور دیت لازم نہ ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) الخامس (قتل بسبب كحافر البئر وواضع حجر في غير ملكه) (قوله في غير ملكه) قيد للحفر والوضع درر، فلو في ملكه فلا تعدي فلا دية ولا كفارة."

 (كتاب الجنايات، ج:6، ص:531،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فإن فعل ذلك بغير أمر الراكب فنفحت الدابة برجلها أو ذنبها أو نفرت فصدمت إنسانا فقتلته ....فالضمان على الناخس والضارب ... لا على الراكب،لأن الموت حصل بسبب النخس أو الضرب،وهو متعد في السبب فيضمن....وقد روي عن سيدنا عمر رضي الله عنه أنه ضمن الناخس دون الراكب، وكذا روي عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه فعل هكذا."

(کتاب الجنایات، باب القتل الذي ھو في معنى القتل الخطأ، ج:7، ص:281،ط: دار الكتب العلمية)

شرح الوقایۃ مع منتہی النقایۃ میں ہے:

"أما إذا لم يكن متعدّيا في السير....لا يضمن في الصور الآتية:إذا كان السائق يسوق سيارته ملتزما بجميع قواعد المرور، ولكن دفع شخص رجلاً آخر أمام سيارته فجأة بحيث لم يمكن له أن يوقف السيارة قبل أن تدهسه."

(کتاب الجنايات، باب الشھادة في القتل واعتبارحالته، ج:5، ص:161، ط:دار الوراق - عمان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں