
میرے ذمے تقریبا سوا تین کروڑ روپے قرض ہے، میرا اپنا ذاتی گھر ہے، جس کی مالیت تقریبا سوا کروڑ ہے،اس میں اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ، ایک دکان پگڑی کی ہے ، اس دکان سے اتنی آمدنی ہوتی ہے جس سے میں صرف گھر کے اخراجات پورے کر سکتا ہوں اور اس دکان کے علاوہ دیگر کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے، ایک موٹر سائیکل ہے اس کی قیمت 50 ہزار روپے ہے ،اور ایک گاڑی ہے جس کی قیمت دو لاکھ روپے ہے، اس کے علاوہ کوئی سونا، چاندی، نقدی یا سرمایہ میرے پاس موجود نہیں ہے، کیا میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوۃ لے سکتا ہوں یا نہیں ؟یعنی میں زکوۃ لے کر اس سے اپنا قرض ادا کر سکوں کیونکہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا اس کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے؟کیا میں زکوۃ لینے کی یہ صورت اختیار کرسکتا ہوں کہ جن کا قرض میرے ذمہ ہے،ان سے بات کرکے ان سے ان کی زکوۃ وصول کرکے انہیں کو اسی مجلس میں لوٹادوں،کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل سواتین کروڑ روپے کا مقروض ہے اور اس کے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی اثاثہ نہیں اور وہ سیدیا عباسی خاندان میں سے نہیں، تو اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے،نیز جن کا قرض سائل کے ذمہ ہے، ان سے ان کی زکوۃ وصول کرکے انہیں کو اسی مجلس میں لوٹادےتواس طرح کرنا جائز ہے،اس سے ان کی زکوۃ اور سائل کا قرض اداہوجائے گا۔
ملحوظہ: یہ محض سوال کا جواب ہے، تصدیق یا سفارش نہیں۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
''لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير، أو دراهم، أو سوائم، أو عروضاً للتجارة، أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه، وثيابه، وخادمه، ومركبه، وسلاحه، ولا يشترط النماء؛ إذ هو شرط وجوب الزكاة، لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي، وآل عباس، وآل جعفر، وآل عقيل، وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية ، ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة، والنذر، والعشر، والكفارة، فأما التطوع : فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي."
(کتاب الزکوة ،باب المصرف : ج:1،ص189، ط: رشیدیة)
البحر الرائق میں ہے:
"فقد صرح بأن الأربعة الأخيرة لا يملكون شيئا، ويستفاد منه أنهم ليس لهم صرف المال في غير الجهة التي أخذوا لأجلها، وفي البدائع: وإنما جاز دفع الزكاة إلى المكاتب؛ لأن الدفع إليه تمليك، وهو ظاهر في أن الملك يقع للمكاتب فبقية الأربعة بالطريقة الأولى لكن بقي هل لهم على هذا الصرف إلى غير الجهة.....قوله والمديون) أطلقه كالقدوري وقيده في الكافي بأن لا يملك نصابا فاضلا عن دينه؛ لأنه المراد بالغارم في الآية، وهو في اللغة من عليه دين، ولا يجد قضاء كما ذكره القتبي، وإنما لم يقيده المصنف؛ لأن الفقر شرط في الأصناف كلها إلا العامل.
(کتاب الزکاۃ،باب مصرف الزکاۃ۔ج:2، ص: 260،ط:المکتب الاسلامی)
اللباب میں ہے:
"(والغارم: من لزمه دين) ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه"
(کتاب الزکوۃ، باب من یجوز دفع الزکاۃ الیه ومن لا یجوز،ج:1، ص: 154، ط:المکتبةالعلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100168
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن