بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض کو قرض کی ادائیگی کے لیے زکاۃ دینا


سوال

میری عمر 61 سال ہے، فی لحال آمدنی کی کوئی صورت نہیں، اور سرمایہ بھی نہیں کہ کچھ کرسکوں،بڑا بیٹا گاڑیوں کے شوروم کا کاروبار کرتا تھا،اس کے پاس میرا سرمایہ باسٹھ لاکھ تھا اور انویسٹر کی رقم لگی تھی ،بیٹے نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی میں میرا کل سرمایہ اور انویسڑکی رقم ڈوب گئی،یہ مصیبت ایسی آئی ہے کہ میرا سارا سرمایہ ڈوب گیا اور انویسٹر کے دو کروڑ ستر لاکھ روپے کا قرض مجھ پر آگیا،  جس میں سے اب ایک کروڑ باسٹھ لاکھ دیناباقی ہے۔اب میں جس گھر میں رہتا ہوں وہ چار بیڈ کا پورشن ہے، جس کی قیمت پانچ کروڑ ہے، اس کو بیچ کر قرض ادا کرکے دوکمرو ں کے چھوٹے گھر میں رہنا مشکل نظر آتا ہے،ایک پلاٹ ستائیس لاکھ کا دس سال پہلے لیا تھا،جو بلڈر اور ڈویلپر کے تنازع کی وجہ سے بکتا نہیں ہے،ایک ذاتی گاڑی ہے جس کی مالیت بیس لاکھ ہے،پچھلے سات ماہ سے گھر کا خرچ ادھار لے کر چلا رہا ہوں قرض ادا کرنے کے بعد بھی معاشی حالت بدلتی نظر نہیں آرہی ہے، انویسڑ کی رقم دو کروڑ کے قریب تھی اور اس  نے رقم مجھےدی تھی ،اور میں نے ضمانت لی تھی رقم کی، انویسٹر کے سامنےمیں ہی اصل تھااور اس نے رقم گاڑیوں کے شوروم کے کاروبار کے لیے دی تھی،میرے بیٹے نے جوکرپٹو کرنسی میں رقم لگائی اس کا انویسٹر کو علم نہ تھا۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان حالت  میں میں  زکاۃ کا مستحق ہوں، اور کیا میں قرض کے علاوہ کاروبار کے لیے بھی زکاۃ لے سکتا ہوں کہ اپنے بچوں کی کفالت کروں؟

وضاحت:

معاملہ 40 / 60 کے تناسب سے تھا،کام سائل اور بیٹےکا تھااور ان کے 40 فیصد تھے اور 60فیصد انویسٹر کےتھے،انویسٹر خود عملا کام میں شریک نہیں تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں انویسٹر اور سائل کے درمیان معاملہ کی یہ صورت مضاربت کی ہے اور سائل کی حیثیت مضارب (عامل)  کی تھی،سائل کو مذکورہ انویسٹر نے رقم گاڑیوں کے کاروبار کے لیے دی تھی اور دونوں کے درمیان ایک مخصوص شرح فیصد  کے حساب سے معاملہ طے ہوا تھا،بعد ازاں سائل نےانویسٹرکی مرضی اور اجازت کے بغیر اپنے بیٹے کو یہ رقم گاڑیوں کےشوروم کے کام کے علاوہ کرپٹوکرنسی میں لگانے کے لئے دے دی تو ایسی صورت میں  یہ عمل  سائل کی طرف سے تعدی (زیادتی) پر مشتمل تھا،سائل کے لیے انویسٹر کی مرضی اور منشاء کے خلاف کام کرنا شرعاً جائز نہیں تھالہذا سائل  انسویسٹر کی رقم کا ضامن ہے، اب چوں کہ سائل مقروض ہےاور ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ مذکورہ ضمان (تاوان)ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے،لہذا سائل کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے، سائل کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ قرض کی جتنا جلدی ہوسکےادائیگی کرے،کیوں کہ قرض غیر کا حق ہے اور قرض کا معاملہ شریعت میں بہت نازک ہے،رہی بات گزر بسر کے اخراجات کی تو اس کے لیے سائل خود بھی حلال آمدنی کی مکمل کوشش کرےاور بیٹے کو حلال آمدنی کی کمائی کے لیے خوب تاکید کرے،رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے لہذا حلال کمائی کی کوشش کو چھوڑ کر محض زکاۃکو تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے مدار اور سہارا بنا لینا مناسب نہیں۔

ملاحظہ:  یہ نفس ِ سوال کا جواب ہے نہ واقعہ کی تصدیق ہےاور نہ سائل کے حق میں سفارش ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه".

(ابواب الجنائز، باب ما جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه، ج:2، ص: 375 ، ط: دارالغرب الاسلامی)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے (یعنی جنت کے دخول سے روک دی جاتی ہے) یہاں تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير

وأما ما زاده في الفتح فإنما جاز الدفع إليه؛ لأنه فقير يدا كابن السبيل كما علل به في المحيط لا؛ لأنه غارم.

(کتاب الزکاۃ، باب مصرف العشر الزکاۃ، ج: 2، ص: 343، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں