بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض شخص کا عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانا


سوال

ایک ایسا شخص ہے جو مقروض ہےاور وہ عمرہ کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا عمرہ ادا ہو جائے گا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مقروض شخص کے پاس اگر عمرہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ قرضہ ادا کرنے کے اسباب موجود ہوں، اور قرض خواہ بھی مہلت دینے کو تیار ہو تو قرضہ اُتارے بغیر عمرے پر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر قرضہ ادا کرنے کے اسباب نہ ہوں اور قرض خواہ بھی مطالبہ کررہا ہو پہلے قرضہ ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیےکیوں کہ حقِ العباد کی ادائیگی حقوق اللہ پر مقدم ہے۔ بہردوصورت مقروض قرضہ ادا کیے بغیرعمرے کے لیے جائےتو عمرہ ادا ہو جائے گا۔

عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:

"وإذا اجتمع حق الشرع وحق العبد ‌يقدم ‌حق ‌العبد لحاجته وغنى الشرع."

(كتاب البيوع،فصل في أحكام البيع الفاسد، ج:6، ص:466، ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قولهم يقدم حق العبد على حق الشرع
(قوله لتقدم حق العبد) أي على حق الشرع لا تهاونا بحق الشرع، بل لحاجة العبد وعدم حاجة الشرع ألا ترى أنه إذا اجتمعت الحدود، وفيها حق العبد يبدأ بحق العبد لما قلنا ولأنه ما من شيء إلا ولله تعالى فيه حق، فلو قدم حق الشرع عند الإجتماع بطل حقوق العباد كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان وأما قوله - عليه الصلاة والسلام - «فدين الله أحق» فالظاهر أنه أحق من جهة التعظيم، لا من جهة التقديم، ولذا قلنا لا يستقرض ليحج إلا إذا قدر على الوفاء كما مر".

(کتاب الحج،ج:2، ص:462، ط:سعید)

   فقط والله تعالى اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101782

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں