
میرے والد کے انتقال کے بعد بہن بھائیوں نے آپس کی رضامندی سے میراث کی تقسیم کی،تقسیم وراثت میں ہم دو بھائیوں کے بیچ ایک فلیٹ حصہ میں آیا، جس میں ہم لوگ رہ رہے ہیں مگر مجھے سات لاکھ روپے اپنے بھائی کو دینا تھےجنہوں نے اپنی ذاتی رقم اس فلیٹ کی خریداری کے وقت والد صاحب کو دے کر خریدا تھا، اور والد صاحب نے صراحت کی تھی کہ یہ سات لاکھ اس بیٹے کو دے دینا بوقت تقسیم وراثت ہم بھائیوں میں یہ طے ہوا کہ جب مذکورہ فلیٹ کو بیچیں گے تو ملنے والی رقم میں سے اس بھائی کو سات لاکھ اپنے حصہ میں دوں گا۔
اس بیچ جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں کے مالک نے میری مدد کی اور چار لاکھ روپے دیے، جس پر ابھی سال پورا نہیں ہواہے، لیکن جس بھائی کو یہ سات لاکھ روپے دینے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سات لاکھ پوری رقم ایک ساتھ دے دینا۔
اب سوال یہ ہے کہ میرے پاس جو چار لاکھ روپے کی رقم ہے کیا مجھے اس کی زکات دینی ہوگی؟
شرعاً زکات کے واجب ہونے کے لیے مال کا دین سے خالی ہونا شرط ہے،اگر وہ ایسا قرض ہو جس کا تعلق حقوق العباد سے ہو یعنی بندوں کی طرف اس کا مطالبہ ہو تو ایسا قرض زکات سے منہا کیا جاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر مذکورہ چار لاکھ کی زکات واجب نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وأما شروط وجوبها فمنها الحرية حتى لا تجب الزكاة على العبد .... (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى. (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى : كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل أو لله - تعالى - كدين الزكاة ... ولو كان الدين خراج أرض يمنع وجوب الزكاة بقدره."
(كتاب الزكاة ، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج :1 ، ص : 172 ،ط : دا ر الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101214
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن