
ایک تحقیقی ادارہ طلبہ کرام کو تحقیقی مقالہ (Research Paper) تیار کر کے فراہم کرتا ہے، اور مقالے کا مواد بھی خود ادارہ مہیا کرتا ہے۔ تاہم، ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ یہ مواد صرف رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لیے ہے، جیسا کہ حل شدہ پرچے یا کتابوں کی شروحات دی جاتی ہیں، لیکن ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ اسے تعلیمی ادارے میں جوں کا توں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔یہ شرط ادارے کی ویب سائٹ پر بھی واضح طور پر درج ہے، جس کی عبارت یہ ہے:
ہماری پریمیم کسٹم رائٹنگ اور تعلیمی معاونت کی خدمات مطالعے، تحقیق اور سمجھ بوجھ کے مقاصد کے لیے ہیں۔ ہمارے مواد کو جوں کا توں تعلیمی اداروں میں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔ صارفین کے لیے تعلیمی دیانت کے اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔
مزید تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ ادارے سے مقالہ حاصل کرنے والے افراد عمومًا 18سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنے نفع و نقصان سے واقف ہیں۔
2۔ حاصل ہونے والی ڈگری صرف اسی مواد پر منحصر نہیں، بلکہ طالب علم کا اپنا کام بھی شامل ہوتا ہے۔
3۔ ریسرچ ادارہ طلبہ کی استعداد اور علمی قابلیت کو جانچنے کا پابند بھی نہیں ہے۔
4۔ اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے نے یہ شرائط قانونی اعتبار سے نافذ کی ہیں، جو دیگر تعلیمی یا تحقیقی ادارے عام طور پر نہیں کرتے۔ یہ شرائط صارفین کے حقوق و فرائض کو واضح کرتی ہیں اور ادارے کی نیت اور ذمہ داری کو قانونی دائرہ میں رکھتی ہیں۔
5.۔ طلبہ کو یہ مواد حوالہ کرتے وقت ان سے واضح حامی لی جاتی ہے کہ وہ اس شرائط کا خیال رکھیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ تمام شرائط عائد کرنے کے باوجوداگر کوئی طالب علم ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعینہ وہی مقالہ تعلیمی ادارے میں جمع کروا دے، تو کیا اس مواد کی تیاری کے بدلے ادارے کا اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟
بعض علماء اسے جائز اور بعض ناجائز قرار دیتے ہیں۔ برائے مہربانی اس مسئلہ پر مکتوب فتویٰ جاری کریں تاکہ دلی تشفی حاصل ہو۔
واضح رہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی جانب سے طالبِ علم کو دیا گیا وہ کام جس سے اس طالبِ علم کی صلاحیت کا امتحان مقصود ہو، اس کی کارکردگی کا تعین ہو اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں اس طالب علم کو سند (Degree) جاری کی جاتی ہو ، ایسا تعلیمی کام طالبِ علم پر بذاتِ خود سرانجام دینا لازم ہوتا ہے۔ورنہ مستقبل میں یہی طالبِ علم نا اہلی کے باوجود اس ڈگری کی بنیاد پر وہ سہولیات حاصل کرے گا جو اصل ڈگری والوں کا حق ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر کوئی ادارہ طالبِ علم کو مکمل مقالہ، اس کی تمام ہیڈنگز، عنوانات اور ان کے تحت ترتیب وار مواد فراہم کرے، تو ایسی مدد جھوٹ، دھوکا دہی اور دوسروں کی حق تلفی میں تعاون کے زمرے میں آتی ہے، جو کہ جائز نہیں، خواہ ادارہ یہ شرط بھی عائد کرے کہ اس مواد کو تعلیمی ادارے میں جوں کا توں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔
البتہ اگر مقالہ طالبِ علم خود لکھے اور ادارہ صرف کمپوزنگ، ڈیزائننگ یا کوئی ثانوی (Technical) کام کرے، تو یہ کام کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہوگا۔اسی طرح اگر ادارہ طالبِ علم کو متفرق مواد، مراجع، نکات یا رہنمائی فراہم کرے، اور پھر طالبِ علم اپنی محنت سے خود مقالہ تیار کرے، تو اس نوعیت کی معاونت اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہوگا۔
مسند احمد میں ہے:
"عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."
( ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
”حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ اللہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔“
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"استأجره ليكتب له تعويذ السحر يصح إذا بين قدر الكاغد والخط كمن استأجره ليكتب له كتابا إلى حبيبه أو حبيبها جاز ويطيب له الأجر. كذا في القنية."
(کتاب الإجارۃ، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج:4، ص:450، ط:دار الفکر)
الموافقات للشاطبى میں ہے:
"أن فعل المباح سبب في مضار كثيرة:- ومنها: أنه سبب في الاشتغال عن الواجبات، ووسيلة إِلى الممنوعات؛ ... والثانی : أنا إِذا نظرنا إِلى كونه وسيلة؛ فليس تركه أفضل بإِطلاق, بل هو ثلاثة أقسام: قسم يكون ذريعة إلى منهي عنه؛ فيكون من تلك الجهة مطوب الترك."
(کتاب الاحکام، ج1، ص176، ط:دار ابن عفان)
فتاوی شامی میں ہے :
"و الأجرة إنما تكون في مقابلة العمل."
(کتاب النکاح، باب المهر، ج:3، ص:156، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101642
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن